السلام وعلیکم میری بہن کی اپنے شوہر سے لڑائی ہوئی لڑائی ہونے کے بعد شوہر گھر سے باہر چلا گیا اور میری بڑی بہن کو جاکے فون کیااور 3 بار بولا''اپنی بہن کو یہاں سے لےکر جاؤمیں نے تمھاری بہن کو فارغ کردیا ہے''۔
برائے مہربانی کیا اس صورت میں طلاق ہوگئ ہے؟
جزاک اللہ
واضح ہو کہ " فارغ ہو یا فارغ کر دیا ''کے الفاظ عند القرینہ صریح بائن کے لیے استعمال ہوتے ہیں،اس لیے مذاکرہ یا مطالبۂ طلاق کے وقت ، ان الفاظ کے بولنے سے ، بلانیت بھی طلاقِ بائن واقع ہوجاتی ہے ، جس کے بعد شوہر کے پاس رجوع کا حق نہیں ہوتا ، چنانچہ صورت مسئولہ میں سائل کے بہنوئی نے مذکور الفاظ " اپنی بہن کو آکر لے جاؤ میں نے اس کو فارغ کر دیا ہے " سے قبل کوئی طلاق نہ دی ہو بلکہ یہ الفاظ تین بار کہہ دیئے ہوں تو اس سے اس کی بیوی (یعنی سائل کی بہن) پر ایک طلاق بائن واقع ہو کر ان دونوں کا نکاح ختم ہو چکا ہے ،جبکہ بقیہ طلاقیں بائن کا بائن سے عدم لحوق کی بناء پر لغو ہو چکی ہیں اور ایام عدت گزرنے کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ،البتہ دوران عدت یا عدت گزرنے کے بعداگر یہ دونوں ساتھ رہنا چاہیں تو باہمی رضامندی سے تو شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے تقرر کیساتھ ایجاب و قبول کرنے کے بعد ساتھ رہ سکتے ہیں، لیکن اس صورت میں آئندہ کیلئے شوہر کو فقط دو طلاقوں کا حق حاصل ہو گا۔اس لئے آئندہ طلاق کے معاملے میں خوب احتیا ط چاہیئے۔
کما فی رد المحتار على الدر المختار: (قوله لا يلحق البائن البائن) المراد بالبائن الذي لا يلحق هو ما كان بلفظ الكناية لأنه هو الذي ليس ظاهرا في إنشاء الطلاق كذا في الفتح الخ( باب الكنايات ، ج:3،ص:308،مط: دار الفكر - بيروت)
وفی الفتاوى الهندية : ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام «والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها كذا في الهداية. ( الفصل الخامس في الكنايات ، ج:1،ص:374،375،مط:دار الفكر بيروت)
وفی البحر الرائق شرح كنز الدقائق: (قوله: لا البائن) أي البائن لا يلحق البائن إذا أمكن جعله خبرا عن الأول ۔۔۔ والمراد بالبائن الذي لا يلحق البائن الكناية المفيدة للبينونة بكل لفظ كان(الی قوله) وفي الحاوي القدسي: إذا طلق المبانة في العدة، وإن كان بصريح الطلاق وقع ولا يقع بكنايات الطلاق شيء، وإن نوى اهـ.( باب الكنايات في الطلاق ، ج:3، ص:332 ،مط: دار الكتاب الإسلامي)