میرے دوست نے نشے کی حالت میں غصے میں بیوی کے بولنے پر اسکو ایک ہی دفعہ میں تین بار طلاق دیدی ہے،اور اب وہ سخت پریشان ہے اور مسئلے کے حل کی درخواست کررہاہے،برائے مہربانی اس کی رہنمائی کیجئے۔
واضح ہو کہ نشہ کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعا طلاق واقع ہوجاتی ہے،لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائل کے دوست نے صریح الفاظ جیسے "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" سے اپنی مدخول بہا بیوی کو تین طلاقیں دی ہوں تو اس سے سائل کے دوست کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، چنانچہ اب رجوع نہیں ہوسکتا،اور نہ ہی بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ نکاح ہوسکتاہے، اس لئے ان دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہگار ہونگے،جبکہ عورت عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما جاء فی التنزیل العزیز: فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُ ۥۗ ، الآیۃ (البقرۃ:230)
وفی صحیح البخاری: عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: "لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول"(کتاب الطلاق،باب من اجاز طلاق الثلاث،ج:5،ص:2014،ط:دار ابن الکثیر،رقم:4961)
وفی الھندیۃ: متى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق۔(ج:1،ص:156،مط:ماجدیہ)
و فی الھدایۃ: «وطلاق السكران واقع " واختيار الكرخي والطحاوي رحمهما الله انه لا يقع وهو أحد قولي الشافعي رحمه الله لأن صحة القصد بالعقل وهو زائل العقل فصار كزواله بالبنج والدواء.
ولنا أنه زال بسبب هو معصية فجعل باقيا حكما زجرا له،الخ(کتاب الطلاق،فصل ویقع طلاق کل زوج،ج:2ص: 61،ط:انعامیہ)
و فی البدائع:«وأما السكران إذا طلق امرأته فإن كان سكره بسبب محظور بأن شرب الخمر أو النبيذ طوعا حتى سكر وزال عقله فطلاقه واقع عند عامة العلماء وعامة الصحابة رضي الله عنهم. الخ (کتاب الطلاق،فصل في شرائط ركن الطلاق وبعضها يرجع إلى الزوج،ج:3،ص:99،ط:سعید)