السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،محترم ! میرا ایک سوال ہے۔ میں اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری (Investment) کرنا چاہتا ہوں۔ اس سلسلے میں ،میں نے اپنے علاقے کے چند علماء کرام سے بھی رہنمائی لی ہے، انہوں نے فرمایا کہ کچھ شرعی شرائط کے ساتھ اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری جائز ہوسکتی ہے۔ اسی طرح میں نے انٹرنیٹ پر بھی اس موضوع سے متعلق مختلف فتاویٰ دیکھے ہیں، جن میں یہ ذکر ہے کہ جس کمپنی میں سرمایہ کاری کی جائے، اس کا کاروبار حلال ہو، وہ حرام اشیاء کی خرید و فروخت نہ کرتی ہو، اور کمپنی حقیقت میں موجود ہو۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ اگر ان شرائط کو مدنظر رکھا جائے تو کیا پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کرنا شرعاً جائز ہے؟ مزید یہ کہ میں خاص طور پر چند کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے کا سوچ رہا ہوں، مثلاً: * OGDCL * Lucky Cement * Meezan Bank براہِ کرم رہنمائی فرما دیں کہ کیا ان کمپنیوں کے شیئرز خریدنا اور ان میں سرمایہ کاری کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ نیز یہ بھی بتا دیجیے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کون سی ایسی کمپنیاں ہیں جو شریعت کے اصولوں کے مطابق ہوں اور جن میں سرمایہ کاری کرنا جائز سمجھا جاتا ہو۔
واضح ہوکہ شیئرز کی خرید و فروخت، خواہ اسٹاک ایکسچینج کے ذریعہ ہو یا کسی دوسری کمپنی اور بینک کے ذریعہ، اگر درجِ ذیل شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے کی جائے تو اس صورت میں یہ بلاشبہ جائز اور اس سے حاصل ہونے والا نفع بھی جائز اور حلال ہے، وہ شرائط یہ ہیں:
(1) جس کمپنی کے شیئرز خریدے جارہے ہیں، اس کا اصل کاروبار حلال ہو۔
(2) اس کمپنی کے کچھ فکسڈ اثاثےبھی وجود میں آچکے ہوں، یعنی صرف نقد کی شکل میں نہ ہوں، ورنہ فیس ویلیو کے برابر رقم کے ساتھ ہی خرید وفروخت جائز ہوگی۔
(3) ماہانہ یا سالانہ نفع کی کوئی خاص رقم یقینی طور پر مقرر نہ ہو، بلکہ فیصد کے حساب سے نفع مقرر کیا گیا ہو۔
(4) نفع ونقصان دونوں میں شراکت ہو۔
(5) اگر کمپنی سودی لین دین کرتی ہے تو اس کی سالانہ میٹنگ میں سود کے خلاف آواز اُٹھائی جائے۔
(6) جب منافع تقسیم ہوں تو دیکھ لیا جائے کہ نفع کا جتنا حصہ سودی ڈپازٹ سے حاصل ہوا ہو، اس کو بلا نیتِ ثواب فقراء و مساکین پر صدقہ کردے۔
یہ تب ہےکہ جب شیئرز خریدنے کا مقصد کسی کمپنی کا حصہ دار بننا اور گھر بیٹھ کر اس کا سالانہ منافع حاصل کرنا ہو۔
جبکہ بعض لوگ شیئرز کو مذکورہ غرض سے نہیں خریدتے، بلکہ ان کامقصد کیپٹل گین ہوتا ہے، یعنی وہ لوگ اس کا اندازہ کرتے ہیں کہ کس کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ کا امکان ہے،چنانچہ اس کمپنی کے شیئرز خرید لیتے ہیں اور پھر چند روز بعد جب قیمت بڑھ جاتی ہےتو انکو فروخت کرکے نفع حاصل کرلیتے ہیں،مذکورہ شرائط کے ساتھ اس معاملے کی بھی شرعاً گنجائش ہے، لیکن اس کو درست کہنے میں دشواری ’’سٹہ بازی‘‘ کے وقت پیش آ تی ہے، جو اسٹاک ایکسچینج کا بہت بڑا اور اہم حصہ ہے، جس میں بسا اوقات شیئرز کا لین دین بالکل مقصود نہیں ہوتا، بلکہ آخر میں جاکر آپس کا فرق (ڈیفرنس) برابر کرلیا جاتا ہے اور شیئرز پر نہ تو قبضہ ہوتا ہے اور نہ ہی قبضہ پیشِ نظر ہوتا ہے، لہٰذا جہاں یہ صورت ہو کہ قبضہ بالکل نہ ہو اور نہ ہی لینا دینا مقصود ہو، بلکہ اصل مقصد سٹہ بازی کرکے ڈیفرنس کو برابر کر لینا ہو تو یہ صورت بالکل حرام ہے اور شریعت میں اس کی اجازت نہیں ہے، اسی طرح بعض اوقات شیئرز پر قبضہ اور ڈیلیوری سے پہلے ہی ان کو آگے فروخت کردیا جاتا ہے، اس کی بھی شریعت میں اجازت نہیں ہے، کیونکہ شیئرز پر قبضہ ضروری ہے اور شیئرز کا قبضہ یہ ہے کہ شیئرز ہولڈر اس کے نفع و نقصان کا حقدار بن جائے، جس کو "رِسک " میں آ نے سے تعبیر کیا جاتا ہے(جس میں ایک سےدو دن لگ جاتے ہیں)تو یہ قبضہ سمجھاجائے گا اور آ گے فروخت کرنا جائز ہوگا، ورنہ جائز نہیں ہوگا ،لہذا سائل کو چاہیئے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری سے قبل اس بات کی تحقیق کرلے کہ متعلقہ کمپنی شریعہ کمپلائنٹ کی انڈیکس کی تازہ فہرست میں شامل ہے یا نہیں ۔ اگر شامل ہو تو اس میں سرمایہ کا ری کی اجازت ہوگی، ورنہ نہیں ۔
جبکہ سوال کی ذکر کردہ کمپنیوں کے متعلق حتمی شرعی حکم ان کے موجودہ مالیاتی اعداد وشمار، بیلنس شیٹ، آمدنی کے ذرائع اورشریعہ اسکریننگ کی تازہ رپورٹ پر موقوف ہے،جو وقتاً فوقتاً تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ اس لیے ان کے بارے میں حکم شرعی ان کی تازہ اسکریننگ رپورٹ دیکھے بغیرنہیں لگایا جاسکتا۔ چنانچہ سائل اگر مطلوبہ دستاویزات کے ساتھ سوال دوبارہ ارسال کردے تو ان پر غور وخوض کے بعدحکم شرعی سے آگاہ کردیا جائے گا۔
کما قال اللہ تعالیٰ: "وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ" (سورۃ البقرۃ، آیۃ: 275)
وفي الصحيح للامام مسلم رحمہ اللہ: "عن جابر، قال:لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا، وموكله، وكاتبه، وشاهديه، وقال: هم سواء.( باب لعن آكل الربا ومؤكله، ج:٢، ص:٢٧،مط:قديمي كتب خانه)
وفی رد المحتار تحت قوله (إلا في حق الوارث إلخ): والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه،الخ (مطلب فيمن ورث مالا حراما، ج: 5، ص: 99، مط: سعید کراچی)
کاروبار اور کاروباری شخص کا تعارف کرانے والے کو بعد میں نقصان کا ذمہ دار ٹھہرانا
یونیکوڈ شیئرز کا کاروبار 0