میرے شادی 21 سال پہلے ہوئی تھی، پر میری کوئی اولاد نہیں ہوئی، میں نے 17 سال کے بعد دوسری شادی کر لی، اس سے میری 2 بیٹیاں ہو گئیں، پھر اللہ نے مجھ کو پہلی بیوی سے 20 سال بعد ایک بیٹا دیا،اب پہلی بیوی ضد میں ہے، یا تو مجھ کو طلاق دو یا دوسری بیوی کو، کوئی حل بتا دیں، میں مر جاؤں گا دونوں کے بغیر، پہلی بیوی کو چھوڑ نہیں سکتا، 21 سال کا ساتھ ہے، بیٹا میرا رُل جائے گا،میں مر جاؤں گا، پر دوسری بیوی سے دو بیٹیاں ہیں، میں اپنی لڑکیوں سے بہت پیار کرتا ہوں،میں نفسیاتی ہو گیا ہوں، کیا کروں؟ کوئی ایسا راستہ کہ میں پہلی بیوی کو بول دوں کہ میں نے دوسری بیوی کو چھوڑ دیا ہے، پر میں چھوڑ نہیں سکتا۔ کوئی راستہ؟ مہربانی
واضح ہو کہ شریعت میں بیک وقت ایک مرد کو چار شادیوں تک کی اجازت دی ہے، بشرطیکہ وہ ان بیویوں کے حقوق، نان و نفقہ وغیرہ ادا کرتا ہو، اور رات گزارنے میں بھی برابری کرتا ہو، لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں اگر سائل دونوں کے درمیان برابری کرتا ہو، اور پہلی بیوی محض سوکن کو برداشت نہ کر رہی ہو، تو ایسی صورت میں پہلی بیوی کااپنے سوکن کے متعلق شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں، اور نہ سائل کے لیے محض اُس کے مطالبہ پر دوسری بیوی کو طلاق دینا بھی لازم ہے، بلکہ حدیث میں ایسی عورتوں کے متعلق سخت وعیدیں وارد ہوئی ہےکہ جو عورت بغیر کسی عذر کے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرتی ہے تو اس پر جنت کی خوشبو بھی حرام ہوگی، اس لئے پہلی بیوی کو چاہیے کہ اپنے اس غلط مطالبہ سے باز آ کر صرف اپنے گھر بسانے اور شریعت کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق ازدواجی زندگی بسر کرنے کی کوشش اور فکر کریں،البتہ اگر سائل کی دونوں بیویاں ایک گھر میں ایک ساتھ رہائش پذیر ہوں، اور اس کی وجہ سے یہ مسائل بن رہے ہوں تو وہ حسب سہولت دونوں کی کھانے پینے وغیرہ کی ترتیب الگ کرسکتے ہیں، اور اگر کھانے پینے اور رہائش کی ترتیب پہلے سے الگ ہوں ،اورپھر بھی پہلی بیوی دوسری کو یاخودکو طلاق دینے کا مطالبہ کررہی ہے تو سائل کو فی الوقت کسی بھی بیوی کو طلاق دینے میں جلد بازی سے کام لینے کے بجائے خانداں کے بڑوں کے ذریعہ مسئلہ حل کرنے اور دونوں بیویوں میں سےکسی ایک کو والدیں کے ہاں بھیج کر وقت دینے اور انہیں سوچنے کا موقع دینا چاہیئے، اور ساتھ اللہ رب العزت سے دعاؤں کا بھی اھتمام کرے، امید ہے کہ وقت کے ساتھ سب بہتر ہوجائیگا۔
کما فی مشکاۃ المصابیح:عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أيما امرأة سألت زوجها طلاقا في غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة» . رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي اھ(کتاب النکاح: الفصل الثانی، ج:٢،ص:٢٨٣، ط: قديمى كتب خانه)
وفی المرقاۃ المفاتیح:عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أيما امرأة سألت زوجها طلاقا) : وفي رواية الطلاق أي لها أو لغيرها (في غير ما بأس) : وفي رواية من بأس أي لغير شدة تلجئها إلى سؤال المفارقة، وما زائدة للتأكيد (فحرام عليها رائحة الجنة) : أي: ممنوع عنها، وذلك على نهج الوعيد والمبالغة في التهديد، أو وقوع ذلك متعلق بوقت دون وقت أي لا تجد رائحة الجنة أول ما وجدها المحسنون، أو لا تجد أصلا، وهنا من المبالغة في التهديد، ونظير ذلك كثير قاله القاضي، ولا بدع أنها تحرم لذة الرائحة ولو دخلت الجنة. (رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي) : وكذا ابن حبان والحاكم اھ(کتاب النکاح: الفصل الثانی، ج:٦،ص:٤٢٠، ط: المكتبة الغفارية)