میری شادی 4 اگست 2025 کو ہوئی تھی۔ شادی سے پہلے، فروری 2025 میں میرے شوہر کو فالج (اسٹروک) ہوا تھا، جس کی وجہ سے وہ طبّی طور پر ازدواجی تعلق قائم کرنے کے قابل نہیں رہے تھے۔
شادی کے دوران ہم نے تنہائی میں ایک ساتھ وقت گزارا، اور ہمارے درمیان جسمانی قربت جیسے گلے ملنا اور بوس و کنار ہوا، لیکن ازدواجی تعلق (جماع) قائم نہ ہو سکا، کیونکہ وہ طبّی طور پر اس کے قابل نہیں تھے۔
شادی کے تقریباً ساڑھے چھ ماہ بعد، جبکہ وہ اب بھی طبّی طور پر جماع کے قابل نہیں تھے، میرے شوہر نے مجھے طلاق دی۔ 15 فروری 2026 کو انہوں نے کہا:طلاق دی، طلاق دی طلاق ،دی، طلاق دی،انہوں نے یہ الفاظ سات مرتبہ دہرائے۔ پھر 17 فروری 2026 کو انہوں نے مجھے ایک تحریری طلاق نامہ بھیجا، جس میں تین طلاقوں کا ذکر تھا۔
یہ تمام طلاقیں فالج کے بعد اس حالت میں دی گئیں جب ازدواجی تعلق قائم کرنا اب بھی ممکن نہیں تھا، اگرچہ ہم نے کوشش کی، مگر فالج کی وجہ سے جماع کبھی ہو نہ سکا۔
میرا سوال یہ ہے کہ
چونکہ طبّی مجبوری کی وجہ سے جماع کبھی نہیں ہوا، تو کیا حنفی فقہ کے مطابق یہ نکاح غیر مدخولہ (یعنی بغیر دخول والا نکاح) شمار ہوگا؟
اور کیا ہم بغیر حلالہ کے نئے نکاح اور نئے حقِ مہر کے ساتھ دوبارہ ایک دوسرے سے نکاح کر سکتے ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر نکاح کے بعد اور رخصتی سے قبل سائلہ اور اس کے سابقہ شوہر(فالج سے قبل جبکہ وہ ہمبستری پر قادر تھے) کے درمیان خلوت صحیحہ( ایسی تنہائی جس میں ازدواجی تعلق قائم کرنے سے کوئی رکاوٹ نہ ہو) کا تحقق نہ ہوا ہو اور اب رخصتی کے بعد اگرچہ میاں بیوی کے درمیان خلوت ہو چکی ہے مگر اس خلوت کے وقت اگر سائلہ کا شوہر مذکور بیماری کی بناء پر حق زوجیت کی ادائیگی سے قاصر ہو، تو شرعاً یہ خلوت معتبر شمار نہ ہوگی ،چنانچہ اس خلوت وتنہائی کے بعد اگر اب سائلہ کے شوہر نے مذکورہ الفاظ " طلاق دی"کے ذریعہ اسے تین سے زائد طلاقیں دیدی ہو، تو اس سے پہلے جملہ " طلاق دی " سےسائلہ پر ایک طلاق بائن واقع ہوکر ان دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے، جبکہ بقیہ طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوگئی ہیں، اب اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے ایک ساتھ رہنا چاہتے ہوں تو نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں باضابطہ ایجاب وقبول کرتے ہوئے تجدید نکاح کرکے ساتھ رہ سکتے ہیں اور آئندہ کے لئے شوہر کو فقط دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہوگا، اس لئے طلاق کے معاملہ میں آئندہ خوب احتیاط چاہئے۔
کما فی الھندیۃ: (الفصل الرابع في الطلاق قبل الدخول) إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة وذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق وكذا إذا قال أنت طالق واحدة وواحدة وقعت واحدة كذا في الهداية الخ(الفصل الرابع في الطلاق قبل الدخول،ج:1ص:373،مط:مکتبہ ماجدیہ)
وفی الھدایۃ: وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها" لأن حل المحلية باق لأن زواله معلق بالطلقة الثالثة فينعدم قبله ومنع الغير في العدة لاشتباه النسب ولا اشتباه في إطلاقه الخ(فصل فيما تحل به المطلقة،ج:2،ص:989،مط:مکتبۃ البشری)
وفی بدائع الصنائع: تفسير الخلوة الصحيحة هو أن لا يكون هناك مانع من الوطء لا حقيقي ولا شرعي ولا طبعي أما المانع الحقيقي فهو أن يكون أحدهما مريضا مرضا يمنع الجماع أو صغيرا لا يجامع مثله أو صغيرة لا يجامع مثلها أو كانت المرأة رتقاء أو قرناء؛
(الیٰ قولہ) وأما المانع الشرعي فهو أن يكون أحدهما صائما صوم رمضان أو محرما بحجة فريضة أو نفل أو بعمرة أو تكون المرأة حائضا أو نفساء؛ الخ(فصل بيان ما يتأكد به المهر،ج:2،ص:293،مط:ایچ ایم سعید)