میں ۔۔۔۔ بارہ (12) سال تک ازدواجی زندگی۔۔۔۔۔ کے نکاح میں رہی ہوں ، بارہ سال بعد مجھے وائس نوٹ کے ذریعے طلاق دی ہے ، طلاق کو پانچ سال کا عرصہ گزر چکا ہے ، اور میرے پاس وائس نوٹ موجود ہے ، برائے مہر بانی اس بارے میں علماء دین کی رائے کی ضرورت ہے ، مجھے اس بارے میں آگاہی دیں ۔
نوٹ : سائلہ سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ پہلی دو طلاقیں بھی وائس نوٹ کے ذریعے دی گئی تھیں ، ان کے اور تیسری طلاق کے درمیان صرف ایک مہینہ کا وقفہ تھا ، وائس نوٹ میں شوہر نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں تمہیں پہلے دو طلاقیں دے چکا تھا اور اب میں تمہیں تیسری طلاق بھی دیتا ہوں اور تم سے اپنا ہر قسم کا تعلق ختم کرتا ہوں ۔
سائلہ کا بیان اگر حقیقت پر مبنی ہو اور اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو کہ اس کے شوہر نے وائس نوٹ کے ذریعے دو طلاقیں دینے کے ایک ماہ بعد( یعنی دوران عدت) دوبارہ وائس نوٹ ہی کے ذریعے سوال میں ذکر کردہ جملہ " میں تمہیں پہلے دو طلاقیں دے چکا تھا اور اب میں تمہیں تیسری طلاق بھی دیتا ہوں اور تم سے اپنا ہر قسم کا تعلق ختم کرتا ہوں " کہا ہو تو اس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور نہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح ہوسکتا ہے ، جبکہ ایام عدت گزرنے کے بعد سائلہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
كما في الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير، اھ(كتاب الطلاق ،فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج: ١، ص: ٤٧٣، مط: ماجدية )
وفی الہندیۃ: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية.اھ (الباب السادس فی الرجعۃ،ج: ١،ص: ٤٧٠، مط: ماجدية)