اگر چہرے پر پھوڑ اور دانے ہوں اور چہرہ دھونے سے زیادہ ہو رہے ہوں توو ضو کیسے کریں؟
اگر چہرے پر زخم والے پھوڑ ےاور دانے ہوں اور زخمی حصہ پر پانی لگنا تکلیف یا نقصان کا باعث ہو توچہرے کا جو حصہ صحیح ہو اسے دھولے اور زخمی حصہ پر مسح کرلے، اوراگر زخمی حصہ پر مسح کرنا بھی تکلیف اور نقصان کی وجہ سے ممکن نہ ہو تو پھر مسح کرنا بھی ضروری نہیں ہے، بلکہ چہرہ دھوئے اور مسح کئے بغیر وضو ہوجائے گا۔ اور اگر ایسا نہیں ہے فقط دانے پھیلنے کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں وضو میں چہرہ دھونا لازم ہوگا۔
"ولو انكسر ظفره فجعل عليه دواء أو علكا فإن كان يضره نزعه مسح عليه وإن ضره المسح تركه، وشقوق أعضائه يمر عليها الماء إن قدر وإلا مسح عليها إن قدر وإلا تركه وغسل ما حولها. كذا في التبيين."(کتاب الطھارۃ،الباب الخامس فی المسح علی الخفین،ج :1، ص:35، ط :دار الفکر)
في أعضائه شقاق غسله إن قدر وإلا مسحه وإلا تركه ولو بيده، ولايقدر على الماء تيمم، ولو قطع من المرفق غسل محل القطع".الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 102):