عاجزانہ گزارش یہ ہے کہ میں ۔۔۔ ولد ۔۔۔عمر 32 سال میرا مسئلہ یہ ہے کہ میری زوجہ ۔۔۔۔ بنت ۔۔۔ 26 سال مؤرخہ 19 اکتوبر سے اپنے والدین کے گھر گئی ہوئی ہے، اور اب تک واپس نہیں آئی میں اور میری والدہ کئی مرتبہ لینے جاچکے ہیں، لیکن اس نے ایک ہی منہ لگا رکھا ہے کہ مجھے علیحدگی چاہیئے، جب کہ ہمارے درمیان کوئی جھگڑا بھی نہیں ہوا تھا، جاتے ہوئے سارا سامان بھی لے گئی ہے، جس میں اسکے والدین کی طرف سے دیا گیا زیور اور ہماری طرف سے دیا گیا زیور سب کچھ لے گئی ہے ہمارے زیور کی مالیت تقریبا 6 تولہ کے قریب ہے اب وہ لوگ دباؤ ڈال رہے ہیں، کہ طلاق دو لیکن میں طلاق دے کر اللہ اور اس کے رسول کو ناراض نہیں کرنا چاہتا، بصورت دیگر وہ لوگ خلع کا دعوی دائر کر تے ہیں ، یا مجھ سے زبردستی طلاق دلواتے ہیں، تو اس صورت میں میرے لیئے کیا حکم ہے کہ مجھے اس کا نان نفقہ ادا کرنا پڑے گا، جب تک وہ میرے گھر پر تھی اس کا نان نفقہ میں ہی ادا کررہا تھا۔
سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعۃ درست اور مبنی برحقیقت ہو اس طور پر کے سائل کی بیوی بغیر کسی شرعی عذر کے سائل کی اجازت و رضامندی کے بغیر والدین کے گھر بیٹھ گئی ہو، تو اس کا مذکور رویہ شوہر کی نافرمانی پر مبنی ہونے کی وجہ سے شرعا جائز نہیں ہے، جس کی وجہ سے وہ گناہ گار بھی ہورہی ہے اس پر لازم ہےکہ وہ اللہ کے حضور بصدق دل توبہ و استغفار کرے اور شوہر سے بھی معافی تلافی کرکے اپنا گھر بسانے کی فکر کرے، جبکہ سائل کو بھی چاہیئے کہ وہ اس معاملہ میں دونوں خاندانوں کے بڑوں کو درمیان میں لاکر صلح صفائی کرکے گھر بسانے کی کوشش کرے، لیکن اس کے باوجود بھی اگر بیوی شوہر کے گھر منتقل نہ ہورہی ہو تو شرعا وہ ناشزہ شمار ہوگی اور سائل کے ذمہ واپس آنے تک اس کا نفقہ ادا کرنا شرعا لازم نہ ہوگا۔
و فی احکام القرآن تحت قولہ تعالی ( الرجال قوامون علی النساء ) قد افاد ذلک لزومھا طاعتہ لان وصفہ بالقیام علیھا یقتضی ذلک ( واللاتی تخافون نشوزھن ) یدل علی ان علیھا طاعتہ فی نفسھا و ترک النشوز علیہ (باب حق الزوج علی المراۃ و حق المراۃ علی الزوج ، ج : 1 ، ص : 374 ، ط : سھیل اکیڈمی )
کما فی بدائع الصنائع: وأما شرط وجوب هذه النفقة فلوجوبها شرطان: أحدهما يعم النوعين جميعا أعني: نفقة النكاح ونفقة العدة،والثاني يخص أحدهما وهو نفقة العدة أما الأول فتسليم المرأة نفسها إلى الزوج وقت وجوب التسليم ونعني بالتسليم: التخلية وهي أن تخلي بين نفسها وبين زوجها برفع المانع من وطئها أو الاستمتاع بها حقيقة إذا كان المانع من قبلها أو من قبل غير الزوج فإن لم يوجد التسليم على هذا التفسير وقت وجوب التسليم (فصل فی شرط وجوب ھذہ النفقۃ، ج: 4، ص: 18،دارالکتب العلمیہ )
وفی الدر المختار: (لا) نفقة لاحد عشر: مرتدة، ومقبله ابنه، ومعتدةموت، ومنكوحة فاسدا وعدته، وأمة لم تبوأ، وصغيرة لا توطأ، و (خارجة من بيته بغيرحق) وهي الناشزة حتى تعود
وفی رد المحتار تحت (قوله وهي الناشزة) أي بالمعنى الشرعي أما في اللغة فهي العاصية على الزوج المبغضة له ( کتاب الطلاق، باب النفقہ، ج: 3، ص: 576، ط: دارالفکر)