السلام علیکم مفتی صاحب! امید ہے آپ خیریت سے ہونگے،میں بہت پریشان ہوں ،اس مسئلہ کے حل کیلئے آپ سے رجوع کررہاہوں،میں اس وقت عمان میں ہوتا ہوں،اور میری صورتحال نیچے دی گئی ہے،تقریباً دو سال پہلے شدید غصے کی حالت میں میرے منہ سے اپنی وائف کیلئے طلاق کے الفاظ نکلے، غصہ اتنا زیادہ تھا کہ میں نے اس وقت چاول کی بھری ہوئی پلیٹ زمین پر مار کر توڑ دی تھی، اور مجھے اپنے ہوش وحواس پر کنٹرول نہیں تھا،میں نے کل ملا کے چھ مرتبہ یہ الفاظ بولے، ایک مرتبہ موبائل توڑنے کی شرط پر میں نے کہا تھا ( کہ اگر موبائل توڑا تو طلاق اور وائف نے موبائل گرادیا تھا)اور باقی مرتبہ غصے میں نکل گئے،میں نے یہ الفاظ صرف زبان سے کہے، میرا دل سے رشتہ ختم کرنے کا ارادہ بالکل نہیں تھا اور نہ ہی میں اپنی وائف کو چھوڑنا چاہتا تھا، ہمیں اس بات کو گزرے ہوئے 2 سال ہوگئےہیں، ہم پچھلے دو سال سے رہ رہے ہیں اور ہمارے درمیان میاں بیوی والے تعلقات (ہمبستری) بھی برقرار ہے، اب میرے دل میں اللہ کا ڈر پیدا ہواہے، اور میں اپنی آخرت کیلئے بہت فکر مند ہوں ، قرآن وحدیث کی روشنی میں میری رہنمائی کریں کہ کیا شدت غضب میں دی گئی طلاق واقع ہوئی؟کیا ہمارا ساتھ رہنا اور رجوع کرنا شرعی طور پر درست ہے؟َآپکے جواب کا انتظار رہے گا تاکہ میرا دل مطمئن ہوسکے!جزاک اللہ خیراً
واضح ہو کہ غصہ کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے، الا یہ کہ غصہ اس درجہ شدید ہو کہ آدمی بالکل عقل و شعور کھو بیٹھے اور اپنے اقوال و افعال کی تمییز نہ رہے۔ لہٰذا صرف پلیٹ توڑ دینا، چیخ و پکار کرنا یا بعد میں ندامت ہونا عدمِ وقوعِ طلاق کے لیے کافی نہیں۔ لہذا صورت مسئولہ میں سائل نے دوسال قبل اپنی بیوی کو اگر صریح الفاظ کے ساتھ متعددبار طلاق دی ہو ،جیسے کہ " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"تو اس سے سائل کی بیوی پرپہلی بارکے تین الفاظِ طلاق کے ساتھ ہی تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، جس کے بعد دوسالوں سےدونوں کا باہم ایک ساتھ میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنا شرعاً ناجائز و حرام ہے، جس کی وجہ سے سائل اور اس کی بیوی سخت گناہ گار ہورہے ہیں، لہذا دونوں پر بصدق دل توبہ و استغفار اور فی الفورایک دوسرے سے علیحدگی شرعاً لازم ہے۔اورسائل کی بیوی پرآخری بارکی ہمبستری کے بعدسے تین حیض عدت گزانالازم ہے ،جس کے بعدوہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزادہوگی۔
کما جاء فی التنزیل العزیز: فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُ ۥۗ ، الآیۃ (البقرۃ:230)
وفی صحیح البخاری: عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: "لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول"(کتاب الطلاق،باب من اجاز طلاق الثلاث،ج:5،ص:2014،ط:دار ابن الکثیر،رقم:4961)
وفی الھندیۃ: متى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق۔(ج:1،ص:156،مط:ماجدیہ)
و فی الرد: (قوله: بشبهة) متعلق بقوله وطئت، وذلك كالموطوءة للزوج في العدة بعد الثلاث بنكاح، وكذا بدونه إذا قال ظننت أنها تحل لي، أو بعدما أبانها بألفاظ الكناية، وتمامه في الفتح، ومفاده أنه لو وطئها بعد الثلاث في العدة بلا نكاح عالما بحرمتها لا تجب عدة أخرى لأنه زنا، وفي البزازية: طلقها ثلاثا ووطئها في العدة مع العلم بالحرمة لا تستأنف العدة بثلاث حيض، ويرجمان إذا علما بالحرمة ووجد شرائط الإحصان، ولو كان منكرا طلاقها لا تنقضي العدة، ولو ادعى الشبهة تستقبل.اھ(کتاب الطلاق، باب العدۃ، مطلب فی وطئ المعتدۃ بشبھۃ،ج:3،ص:518،ط:سعید)