میں نے اپنے شوہر سے کسی بحث پر بول دیا مجھے طلاق دیدیں اور کافی بار یہ بات بولی، مجھے چپ کروانے کے لیے انہوں نے بولا " دیدی" میں نے ان سے کنفرم کیا ، دیدی؟ تو انہوں نے بولا "دیدی" اب اگلے دن میں نے ان سے پوچھا آپ نے طلاق دیدی تو بولے نہیں ، تمہیں چپ کروانے کے لیے دی تھی ، اور یہ بات قسم کھا کر بولی ، اور اب تک ہماری رخصتی نہیں ہوئی ہے ، تو کیا اس صورت میں نکاح ٹوٹ گیا؟
واضح ہو کہ بیوی کی طرف سے مطالبہ طلاق کے جواب میں " دیدی" کہنے سے بلا نیت بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائلہ اور اس کے شوہر کے درمیان خلوت صحیحہ ( یعنی ایسی تنہائی میں ملاقات جہاں ان کے درمیان میاں، بیوی والے تعلقات قائم کرنے میں کوئی حسی، شرعی یا طبعی مانع نہ ہو) نہ ہوئی ہو تو غیر مدخول بہا ہونے کی وجہ سے مذکور الفاظ "دیدی " سے سائلہ پر ایک طلاق بائن واقع ہو کر سائلہ اور اس کے شوہر کا نکاح ختم ہوچکا ہے ، جس کے بعد سائلہ بغیر عدت گزارے بھی کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے، البتہ اگر دونوں باہمی رضامندی سے دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لیے باقاعدہ گواہوں کی موجود گی میں نئے حق مہر کے ساتھ باضابطہ ایجاب و قبول کر تے ہوئے تجدید نکاح کرنا لازم ہوگا ،تاہم اس کے بعد شوہر کو آئندہ کے لیے صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا ، اس لیے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط چاہیے ۔
كما في الدر المختار: قالت لزوجها: طلقني فقال فعلت طلقت، فإن قالت زدني فقال فعلت طلقت أخرى.
وفي رد المحتار تحت (قوله فقال فعلت) أي طلقت بقرينة الطلب(كتاب الطلاق، ج: ٣، ص: ٢٩٤، مط: سيعد)
وفي الهندية: وفي المنتقى امرأة قالت لزوجها طلقني فقال الزوج قد فعلت طلقت فإن قالت زدني فقال فعلت طلقت أيضا روى إبراهيم عن محمد - رحمه الله تعالى - قيل لرجل أطلقت امرأتك ثلاثا قال نعم واحدة قال القياس أن يقع عليها ثلاث تطليقات ولكنا نستحسن ونجعلها واحدة(كتاب الطلاق، الباب الثاني في ايقاع الطلاق، ج: ١، ص: ٣٥٦، مط: سعيد)
وفي الهندية: إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة وذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق وكذا إذا قال أنت طالق واحدة وواحدة وقعت واحدة كذا في الهداية(كتاب الطلاق، الفصل الرابع في الطلاق قبل الدخول، ج:١ ص: ٣٧٣، مط: سعيد)
وفي رد المحتار: لو كرر مسائل الطلاق بحضرتها، أو كتب ناقلا من كتاب امرأتي طالق مع التلفظ، أو حكى يمين غيره فإنه لا يقع أصلا ما لم يقصد زوجته، وعما لو لقنته لفظ الطلاق فتلفظ به غير عالم بمعناه فلا يقع أصلا على ما أفتى به مشايخ أوزجند صيانة عن التلبيس اھ(باب صريح الطلاق،ج:٣، ص:٣٥٠ مط: سعيد)