زید کی بیوی ناراض ہو کر اپنے میکے چلی گئی ،زید نے اسے ایک پیپر پر لکھ کے بھیج دیا "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں "،زید کی بیوی حاملہ تھی،علاقہ معززین نے دونوں کی صلح کروا دی، کچھ 5 ماہ بعد بچے کی ولادت ہوئی ،بچے کی ولادت کے 2 ماہ بعد زید کی بیوی دوبارہ ناراض ہوکر اپنے میکے چلی گئی، تو زید نے عدالت کے ذریعے 2 نوٹس طلاق کے دوبارہ بھیج دیئے، دو ماہ کے بعد علاقہ کے معززین نے دوباہ صلح کروا دی، مفتی اہل سنت سے فتوی پوچھا تو انہوں نے کہا نکاح دوبارہ کر لے، نیا مہر طے کر لے، اب دونوں 7 ماہ سے ایک ساتھ رہ رہے ہیں،اور زید کی بیوی دوبارہ حاملہ ہے، اب دونوں کا ایک ساتھ رہنا اور بچے کے بارے کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں جب زید نے پہلی مرتبہ حالتِ حمل میں اپنی بیوی کو تحریری طور پر ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ کے ذریعے تین طلاقیں دے دی تھیں، تو اس سےاس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی تھی، جس کے بعد رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دونوں کا باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہٰذا علاقے کے معززین اور مذکور مفتی صاحب کا تین طلاقوں کے وقوع کے بعد ان کو ساتھ رہنے کا مشورہ دینا قطعاً درست نہیں تھا، تاہم اس غلط فیصلے کے نتیجہ میں حرمت کا علم نہ ہونے کی وجہ سے وہ ساتھ رہ رہے ہوں، تو اس دوران ہونے والے بچے کا نسب زید سے ہی ثابت ہوگا،البتہ اب تک ساتھ رہنے کی وجہ سے جو گناہ سرزد ہواہے، اس پر دونوں کو بصدقِ دل توبہ و استغفار کرتے ہوئے ایک دوسرے سے فوراً علیحدگی لازم ہے، جب کہ عورت وضعِ حمل کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
كماقال الله قال الله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ } [البقرة:٢٣٠]
وفي تفسير المظهرى: وقوله تعالى فَإِنْ طَلَّقَها فَلا تَحِلُّ له من بعد لان قوله تعالى الطلاق على هذا التأويل يشتمل الطلقات الثلاث أيضا وعلى كلا التأويلين يظهران جمع الطلقتين او ثلاث تطليقات بلفظ واحد أو بألفاظ مختلفة فى طهر واحدحرام بدعة مؤثم خلافا للشافعى فانه يقول لا بأس به- لكنهم أجمعوا على انه من قال لامراته أنت طالق ثلاثا يقع ثلاثا بالإجماع اھ(سورة البقرة:٢٣٠، ج:١،ص:٣٣٤،ط:التراث)
وفي رد المحتار: إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.وإن علق طلاقها بمجيء الكتاب بأن كتب: إذا جاءك كتابي فأنت طالق فجاءها الكتاب فقرأته أو لم تقرأ يقع الطلاق كذا في الخلاصة اھ(باب الطلاق،ج :٣،ص:٢٤٦،ط:سعيد)
وفی الھندیۃ:إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير اھ(فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به،ج:١،ص:٤٧٣،ط:ماجدية)
وفیہاایضا:ولو طلقہا ثلاثا ثم تزوجہا قبل ان تنکح زوجا غیرہ فجاءت منہ بولد ولایعلمان بفساد النکاح فا لنسب ثابت وان کان یعلمان بفساد النکاح یثبت النسب ایضا عند ابی حنیفۃ تعا لی کذا فی التاترخانیۃ ناقلا عن التجنیس اھ(باب في ثبوت النسب، ج:١،ص:٥٤٠، ط:ماجدیہ)
وفیہاایضا:وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا فلا وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو اھ(الفصل السادس في الطلاق بالكتابة،ج:١،ص:٣٧٨،ط:ماجدية)
وفی تبیین الحقائق: قال رحمه الله(والحامل وضعه) أي عدة الحامل وضع الحمل سواء كانت حرة أو أمة،وسواء كانت العدة عن طلاق أو وفاة أو غيره لإطلاق قوله تعالى {وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن} [الطلاق: 4] وهذا قول ابن مسعود وعمر رضي الله عنهما اھ(باب العدة،ج:٣،ص:٢٥٢،ط:دار الكتب العلمية)