السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحبان! امید کرتا ہوں آپ خیریت سے ہوں گے، ہماری کمپنی ہمیں انٹرسٹ فری کارلون دیتی ہے، لون کی قسط ہم ادا کرتے ہیں اور انٹرسٹ کمپنی ادا کرتی ہے، لیکن فنانشل سال کے آخر میں ایف بی آر کو ہماری سالانہ انکم میں دکھا دیتے ہیں کہ ہم ایمپلائی کو یہ فیسیلٹی دیتے ہیں، کیا اسلامی اور شرعی طور پر یہ لون جائز ہے یا نہیں؟
صورت مسئولہ میں مذکور کمپنی اگر از خود بینک وغیرہ سے براہ راست کار فنانس کرتی ہو، ملازم کا اس سے کوئی تعلق نہ ہو ، بلکہ وہ اصل رقم اپنی تنخواہ سے کٹواتا ہو، اور اس پر لگنےوالاسود بھی کمپنی خود کرتی ہو ، ملازم سود کی ادائیگی کا ذمہ دار نہ بنتاہو، توایسی صورت میں ملازم کے لیےکمپنی سے " کارفنانس "کامعاملہ کرنا جائز ہے۔
البتہ اگر ملازم بینک سے از خود تمام معاملات طے کرتا ہو اور اور کمپنی محض اس کی طرف سے سود ادا کر تی ہو، یا ملازم سودی معاہدے کا باقاعدہ فریق ہو، تو ایسی صورت میں "کارفنانس"کامذکورمعاہدہ جائزنہ ہوگا،جس سے بہرصورت احترازلازم ہے۔
کما فی صحیح مسلم: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ»، وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ» (3/1219 رقم الحدیث 1598)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة الخ (5/166)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0