میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ انکم ٹیکس ریٹرن میں سود کی رقم کا ذکر کرنا اور اسے دیگر آمدنی کے ساتھ شامل کرنا حلال ہے یا حرام؟
واضح ہوکہ انکم ٹیکس ریٹرن میں چونکہ مجموعی آمدنی کاذکر کرنا پڑتاہے اس بات سے قطع نظر کہ وہ آمدنی حلال ہے یا حرام ، لہذا انکم ٹیکس ریٹرن میں تو تمام آمدنی ظاہر کرنی چاہیے ،البتہ شرعی لحاظ سےسودی رقم وصول کرنا اور اسے اپنے استعمال میں لانادونوں قطعا حرام اور ناجائز ہےاور قرآن و احادیثِ مبارکہ میں دونوں پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،اس لیے اولا تو ایک مسلمان کو سودی لین دین سے مکمل اجتناب کرنا لازم ہے البتہ اگر کسی نے سودی معاملہ کر کے کچھ رقم حاصل کی ہو تو اس کے متعلق حکم یہ ہےکہ سود کی مد میں جورقم مل جائے ، تو اگر اس کا اصل مالک معلوم ہو، تو یہ رقم اس تک پہنچانا ، ورنہ اسےبغیر نیت ثواب کسی ضرورت مند اور مستحق زکوۃ شخص کو دینا اور اپنے اس عمل پر بصدق دل توبہ واستغفار کرکے آئندہ کے لیے سودی لین دین سے اجتناب لازم ہوگا۔
کماقال اللہ تعالی: ٱلَّذِينَ يَأۡكُلُونَ ٱلرِّبَوٰاْ لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ ٱلَّذِي يَتَخَبَّطُهُ ٱلشَّيۡطَٰنُ مِنَ ٱلۡمَسِّۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَالُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡبَيۡعُ مِثۡلُ ٱلرِّبَوٰاْۗ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ (سورۃ البقرہ،الایۃ: 275)
وفی الجامع لاحکام القرآن للقرطبی: إن سبيل التوبة مما بيده في الاموال الحرام إن كانت من ربا، فليردها علي من اربي عليه، ويطلبه إن لم يكن حاضرا فإن أيس من وجوده فليتصدق بذالك عنه.اھ(سورۃ البقرۃ، رقم الآیۃ:275، ج:3، ص:348،ط:دار احیاء التراث العربی بیروت)
وفی صحیح مسلم: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: هم سواء رواه مسلم. اھ( کتاب المساقات،ج:3،ص:1219،ط: دار احیاء التراث)
وفي رد المحتار: ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اھ(باب الحظر والاباحۃ،ج:6،ص:385،ط:سعید)
وفی الھندیہ: ان کان المال بمقابلة المعصية فكان الأخذ معصية والسبيل في المعاصي ردها وذلك هاهنا برد المأخوذ إن تمكن من رده بأن عرف صاحبه وبالتصدق به إن لم يعرفه ليصل إليه نفع ماله إن كان لا يصل إليه عين ماله اھ(کتاب الکراھیۃ، الباب الخامس عشر فی کسب الحرام، ص:349،ط:ماجدیۃ)۔