مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ 2023 میں میں نے سٹامپ پیپر پر بیوی کو طلاق دی ہے، اور اس وقت میری طرف سے نہ کوئی گواہ موجود تھا، نہ میری بیوی موجود تھی، نہ اس کے ابو موجود تھے، تو کیا طلاق واقع ہوگئی ہے، میں اہلسنت سے تعلق رکھتا ہوں۔
واضح ہو کہ طلاق واقع ہونے کے لیے گواہوں یا بیوی کا موجود ہونا شرعا لازم اور ضروری نہیں، بلکہ بیوی کی طرف نسبت کرتے ہوئے اگر تحریری یا زبانی طلاق دی جائے تو شرعا طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہذا سائل نے 2023 ء میں اپنی بیوی کو جو طلاق دی ہے، وہ اگرچہ گواہوں اور بیوی کی موجودگی میں نہیں دی ہے اس کے باوجود شرعا طلاق واقع ہوچکی ہے۔
وفی رد المحتار تحت قولہ (طلقت بوصول الکتاب) ولو قال للكاتب: اكتب طلاق امرأتي كان إقرارا بالطلاق وإن لم يكتب، ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابة أو قال للرجل: ابعث به إليها، أو قال له: اكتب نسخة وابعث بها إليها اھ ( مطلب فی الطلاق بالکتابۃ، ج: 3، ص: 246، ط: سعید)
و فی بدائع الصنائع : وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية الی قولہ سواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة. ( کتاب الطلاق ، فصل فی حکم الطلاق البائن ، ج :3 ، ص : 187 ، ط : دار الکتب العلمیۃ)
وفی ردالمختار تحت قولہ : ( لترکہ الاضافۃ ) ولا یلزم کون الاضافۃ صریحۃ فی کلامہ ، لما فی البحر لو قال طالق فقیل لہ من عنیت ؟ فقال امراتی طلقت امراتہ ھ ( باب الصریح ، ج : 3 ، ص : 248 ، ط : سعید )