محترم مفتی صاحب!
میں ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں نائٹ شفٹ کرتا ہوں۔ نائٹ میں فیمیل اسٹاف موجود نہیں ہوتا، اس لیے ہمیں (میل اسٹاف) فیمیل مریضہ کو بھی IV/IM انجیکشن، آکسیجن وغیرہ لگانا پڑتا ہے۔ یہ سب صرف میڈیکل ایمرجنسی اور علاج کی نیت سے ہوتا ہے، پوری پروفیشنل حدود میں رہ کر۔
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں:
کیا ایسی صورت میں مرد کا فیمیل مریضہ کا علاج کرنا شرعاً جائز ہے؟
جزاکم اللہ خیراً۔
واضح ہو کہ لیڈی ڈاکٹر دستیاب نہ ہونے کی صورت میں مرد ڈاکٹر سے عورت کا علاج کرانا شرعاً جائز ہے،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر نائٹ میں فیمیل اسٹاف موجود نہ ہو اور مریضہ کا علاج مرد ڈاکٹر سے کرانا ناگزیر ہو، تو ایسی صورت میں مرد ڈاکٹر کےلیے مریضہ خاتون کا علاج کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں،البتہ ڈاکٹر حضرات پر لازم ہے کہ علاج و معالجہ کے دوران بلا شہوت اور بقدرِ ضرورت صرف اسی حصے کو دیکھے جس کو کھولے بغیر تشخیص اور علاج ممکن نہ ہو، اور حتی الامکان شرعی حدود کو ملحوظ رکھنے کا اہتمام کریں۔
کما فی الدر المختار: (وشرائها ومداواتها ينظر) الطبيب (إلى موضع مرضها بقدر الضرورة) إذ الضرورات تتقدر بقدرها ،و كذا نظر قابلة و ختان و ينبغي أن يعلم امرأة تداويها، لأن نظر الجنس إلى الجنس أخف اھ(كتاب الحظر والإباحة،ج:6،ص:370،ط:سعید)
وفی الھندیۃ: امرأة أصابتها قرحة في موضع لايحل للرجل أن ينظر إليه لايحل أن ينظر إليها لكن تعلم امرأة تداويها، فإن لم يجدوا امرأة تداويها، ولا امرأة تتعلم ذلك إذا علمت وخيف عليها البلاء أو الوجع أو الهلاك، فإنه يستر منها كل شيء إلا موضع تلك القرحة، ثم يداويها الرجل ويغض بصره ما استطاع إلا عن ذلك الموضع، ولا فرق في هذا بين ذوات المحارم وغيرهن؛ لأن النظر إلى العورة لايحل بسبب المحرمية، كذا في فتاوى قاضي خان اھ(کتاب الکراھیۃ،ج:5،ص:330،ط:ماجدیۃ)
وفي البحر الرائق: والطبيب إنما يجوز له ذلك إذا لم يوجد امرأة طبيبة فلو وجدت فلا يجوز له أن ينظر لأن نظر الجنس إلى الجنس أخف وينبغي للطبيب أن يعلم امرأة إن أمكن وإن لم يمكن ستر كل عضو منها سوى موضع الوجع ثم ينظر ويغض ببصره عن غير ذلك الموضع إن استطاع لأن ما ثبت للضرورة يتقدر بقدرها.اھ((کتاب الکراھیۃ،ج:8،ص:192،ط:رشیدیۃ)۔