میرے شوہر سے میری لڑائی ہوئی،جس پر غصے میں انھوں نے کہا کہ میں تمھیں آزاد کرتا ہوں، جا اپنے باپ کے گھر،طلاق کی تصدیق کرنے پر انھوں نے کہا میں نے چھوڑنے کی نیت سے نہیں بولا، اب عدت کا وقت گزر چکا ہے، کیا اب رجوع کی گنجائش ہے یا نہیں، اور کیسے رجوع کرسکتے ہیں، مہروبانی کرکے رہنمائی کریں، میں اپنا گھر خراب نہیں کرنا چاہتی،لیکن اس طرح ساتھ رہنے سے مجھے گناہ کا ڈر ہے،براہ کرم رہنمائی کریں!
واضح ہو کہ "آزاد" کا لفظ ہمارے عرف میں عموما صریح طلاق کے لئے استعمال ہوتا ہے اور صریح الفاظ سے بغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے ،لہذا صورت مسؤلہ میں سائلہ کے شوہر کا مذکور جملہ ایک بار کہنے سے سائلہ پر ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی ہے جس کے بعد عدت میں رجوع نہ کرنے سے دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے،چنانچہ اب رجوع تو نہیں ہوسکتا البتہ اگر سائلہ اور اس کا شوہر دوبارہ ساتھ رہنا چاہتے ہوں تو اس کے لئے باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب و قبول کرتے ہوئے تجدید نکاح لازم ہوگا،تاہم اس نکاح کے بعد آئندہ کے لئے اسے صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا ،اس لئے شوہر کو چاہیئے کہ آئندہ اس قسم کے الفاظ بولنے سے مکمل احتراز کرے۔
کما فى الهداية:وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض.(ج:٢.ص:٢٥٤)
و فى الدرالمختار:فإِذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجْعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لانه غلب فى عرفِ الفرسِ اسْتعماله فى الطلاق.(ج:٣،ص:٢٩٩)
و فی بدائع الصنائع : اما الطلاق الرجعی فالحکم الاصلی لہ ھو نقصان العدد ، فاما زوال الملک ، و حل الوطء فلیس بحکم اصلی لہ لازم حتی لا یثبت للحال ، و انما یثبت فی الثانی بعد انقضاء العدۃ فان طلقھا و لم یراجعھا بل ترکھا حتی انقضت عدتھا بانت (کتاب الطلاق ، فصل فی حکم الطلاق ، ج : 3 ، ص : 120 ، ط : دار الکتب العلمیہ)
وفی الھندیہ: ’’ولو قال في حال مذاكرة الطلاق باينتك أو أبنتك أو أبنت منك أو لا سلطان لي عليك أو سرحتك أو وهبتك لنفسك أو خليت سبيلك أو أنت سائبة أو أنت حرة أو أنت أعلم بشأنك. فقالت: اخترت نفسي. يقع الطلاق وإن قال لم أنو الطلاق لا يصدق قضاء.اھ (کتاب الطلاق، الفصل الخامس، ج: 1، ص: 375، ط: دارالفکر)