جھگڑے کے دوران شوہر کا کہنا کہ "طلاق دینی پڑے گی"، بیوی کا کہنا کہ "دے"، شوہر کا کہنا کہ "نہ روکی تو انج کرنا پاؤسی"، بیوی کا کہنا کہ "دے" اور پھر شوہر کا کہنا کہ "دینا مطلب ابھی دی نہیں ارادہ ہے"۔
صورتِ مسئولہ میں شوہر کےبیوی کے ساتھ جھگڑے کے دوران سرائیکی زبان میں مکالمہ کی صورت میں اداکیے گئے الفاظ"طلاق دینی پڑے گی"اور بعد میں یہ کہنا کہ "نہ روکی تو انج کرنا پاؤسی"(یعنی تم بازنہ آئی توایسا کرنا پڑے گا)اسی طرح شوہرکایہ کہنا کہ "دینا"(دیتاہوں یعنی مستقبل میں) طلاق کا انشاء نہیں ، بلکہ آئندہ طلاق دینے کا ارادہ یادھمکی کے الفاظ ہیں ۔
لہٰذا اگر شوہرنے صریح الفاظِ طلاق (مثلاً "میں نے تجھے طلاق دی" یا " طلاق دیتاہوں ") ادانہ کیے ہوں،تومحض مذکورہ گفتگو سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔تاہم میاں بیوی پرآئندہ اس قسم کے اشتعال انگیز جملوں کاتبادلہ کرنے سے احترازلازم ہے
كما رد المحتار: (قوله وما بمعناها من الصريح) أي مثل ما سيذكره من نحو: كوني طالقا واطلقي ويا مطلقة بالتشديد، وكذا المضارع إذا غلب في الحال مثل أطلقك كما في البحر. (باب صريح الطلاق، ج: 3، ص: 248، ط: ايج ايم سعيد)
وفي الدر المختار: أو أنا أطلق نفسي لم يقع لأنه وعد جوهرة.اهـ (باب التفويض، ج: 3، ص: 319)
وفي الهندية: في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقا. (الباب الثاني في إيقاع الطلاق، ج: 1، ص: 384، ط: مكتبة ماجدية)