میں نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دی ہیں، کیا وہ میرے لیے حلال ہے یا تفصیلی فتویٰ کی ضرورت نہیں؟
واضح ہو کہ تین طلاقیں خواہ ایک مجلس میں دی جائیں یا الگ الگ مجالس میں، اس سے بہر صورت تین طلاقیں ہی واقع ہوتی ہیں ،لہذ ا صورتِ مسئولہ میں سائل نے جب ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دےدیں تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا ،اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً علیحدگی اختیار کریں ،ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے،جبکہ عورت ایام عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما فی تفسیر القرطبی: ٰواتفق أئمة الفتوى على لزوم إيقاع الطلاق الثلاث في كلمة واحدة، وهو قول جمهور السلف اھ،(سورة البقرة (2): آية: 229،ج: 3،ص: 129،مط: دار الکتب المصریہ۔)
وفی سنن ابن ماجہ: عن أبي الزناد، عن عامر الشعبي قال: قلت لفاطمة بنت قيس: حدثيني عن طلاقك؟ قالت: طلقني زوجي ثلاثا وهو خارج إلى اليمن، فأجاز ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم.( باب من طلق ثلاثا في مجلس واحد، ج:1 ،ص:434،رقم الحدیث: 2024، مط: دار الصدیق لنشر۔)
وفی رد المحتار: (قوله والبدعي) منسوب إلى البدعة والمراد بها هنا المحرمة لتصريحهم بعصيانه بحر (قوله ثلاثة متفرقة) وكذا بكلمة واحدة بالأولى،ا(لی قولہ) وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث اھ،(کتاب الطلاق،ج:3،ص: 232،:مط: دار الفکر بیروت۔)