"السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ؛ مفتی صاحب! کیا ساس سسر کے ساتھ اکٹھے رہتے ہوئے ، ساس دودھ سے مکھن، گھی وغیرہ خود اپنی مرضی سے اپنے میکے والوں کو دے سکتی ہے؟ جبکہ اس کے پوتے پوتیاں بھی ہوں اور وہ ان کو نہ دے؟ کیا اس طرح کرنے سے وہ دوسروں کا حق تو نہیں کھاتی؟ "
صورتِ مسئولہ میں مذکور دودھ، مکھن، گھی وغیرہ اگر سائلہ کی ساس کی ذاتی ملکیت ہو تو وہ اپنی مرضی سے جسے چاہے دے سکتی ہے،چنانچہ سائلہ کی ساس کے اپنے میکے والوں کو دودھ ،مکھن دینے سے شرعاً کسی کی حق تلفی لازم نہیں آتی،البتہ اگر یہ چیزیں سائلہ کے شوہر یا مشترکہ گھر کی ملکیت ہوں، یا پوتے پوتیوں کا ان میں کوئی شرعی حق بنتا ہو، تو ان کی اجازت کے بغیر دوسروں کو دینا جائز نہیں ہوگا،لہٰذا محض پوتے پوتیوں کو نہ دینے کی وجہ سے اسے دوسروں کا حق کھانا قرار دینا درست نہیں،جس سے احتراز لازم ہے،تاہم سائلہ کی ساس کو چاہیئے کہ اپنے پوتے ، پوتیوں کے ساتھ محبت اور شفقت کا معاملہ کرتے ہوئے حتی الامکان ان نعمتوں میں ان کو بھی شریک کرلے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔
کما فی شرح الاشباہ و النظائر: والحاصل: أن من تصرف في خالص ملكه لا يمنع منه في الحكم، وإن كان يلحق ضررا بالغير، وهو القياس لكن ترك القياس في مواضع يتعدى ضرر تصرفه إلى غيره ضررا بينا،وقال ابن الشحنة في شرح الوهبانية: وفي حفظي عن أئمتنا الخمسة أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد وزفر والحسن بن زياد أنه لا يمنع من التصرف في ملكه، وإن أضر بجاره،وفي الفتاوى عن أستاذنا أنه يفتى بقول الإمام، وهو الذي أميل إليه، وأعتمده وأفتي به تبعا لوالدي شيخ الإسلام،قال بعض الفضلاء: وأنا أميل إلى القول بالمنع إذا كان الضرر بينا وهو الاستحسان (انتهى) (کتاب القسمۃ، ج:3، ص:200، ط:دار الکتب العلمیۃ)۔