کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی غصے کی حالت میں اپنی بیوی کو یہ کہے کہ" اگر تو میرے ساتھ خوش نہیں ہے تو لے لو طلاق"، اس پر میری بیوی نے ناراضگی کا اظہار کیا اور طلاق نہیں لی، کیا اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟
تنقیح: سائل سے رابطہ کیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ مذکور جملے کہتے وقت سائل کی نیت طلاق دینے کی نہیں تھی۔
صورتِ مسئولہ میں سائل نے اپنی بیوی کو مذکور جملہ’’اگر تو میرے ساتھ خوش نہیں ہے تو لے لو طلاق‘‘ اگر طلاق دینے کی نیت سے نہ کہا ہو،جس پر وہ قسم کھانے کے لئے بھی تیا رہو، تو اس سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، بلکہ میاں بیوی دونوں کا نکاح بدستور برقرار ہے۔
فتاوی عثمانی میں ہے:
اردو محاورے میں مذکورہ جملے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں،ایک یہ کہ ”جب تم میرے ساتھ رہنا نہیں چاہتیں تو پھر میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ،طلاق لے لو“اور دوسرا مطلب اردو محاورے میں یہ بھی ہوسکتا ہےکہ”جب تم میرے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تو پھر مجھ سے طلاق لے لو“یعنی مجھ سے طلاق طلب کرلو،اردو محاورے کے لحاظ سے مذکورہ جملے میں دونوں معنی کا یکساں احتمال ہے،اس کے بر خلاف ”خذی طلاقک “میں عربی محاورے کی رُو سے دوسرا احتمال نہیں ،بلکہ وہ پہلے معنی پر صریح ہے،اسی لیے وہاں نیت کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔اور جب شوہر کے مذکورہ جملے میں دونوں کا احتمال ہےتو کسی ایک معنی کی تعیین میں اس کا قول معتبر ہوگا،لہذا وہ جو ان الفاظ کو ”دھمکی اور مستقبل کا ارادہ “بتلاتا ہے،اگر وہ اس پر حلف کرےکہ میرامقصد طلاق دینا نہ تھا،بلکہ بیوی کو طلاق کے مطالبے کا حکم دینا تھا،تو اس کا قول قضاءً معتبر ہوگا،اور ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔(ج 2ص353 مکتبہ: معارف القرآن کراچی)۔