السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرا م اس مسئلہ کے بارے میں کہ ۔۔۔۔ نامی شخص جوکہ دبئی میں ہوتے ہیں،اور اس کی بیوی جس کا نام ۔۔۔ہے، جوکہ پاکستان میں ہے، ۔۔نے اپنی بیوی کو موبائل کے ذریعے وائس بھیجا، جس میں انہوں نے یہ الفاظ کہے ، آپ مجھ سے کیوں بات نہیں کر رہی ہو، میں تیرے نسل کے اندر گھس جاؤں گا، تو یہ میسج ۔۔۔ کو بھیج، اور اپنی پھپیوں کے پاس بھیج ،جس کو بھی بھیج دی کہ میرے کو تیرے ساتھ نہیں رہنا ہے،۔۔۔ میں تجھے طلاق دے رہا ہوں، ۔۔۔ میں تجھے طلاق دے رہا ہوں،۔۔۔ میں تجھے طلاق دے رہا ہوں،ختم میرے گھر سے سامان نکال اور پہلی فرصت میں نکل، ابھی یہ وائس میں سب کو بھیج رہا ہوں، یہ وائس کے الفاظ تھے، آیا طلاق واقع ہوگئی یا نہیں؟ اگر طلاق واقع ہوگئی تومہر کا کیا حکم ہے؟ اور بیوی کا یہ کہنا کہ میرا شوہر نشے میں تھا، اور شوہر کا کہنا ہے کہ طلاق نہیں ہوئی۔
نوٹ: شوہر کے مذکور الفاظ "وائس میسج" کی صورت میں موبائل میں موجود ہے۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اگر شوہر مسمی ۔۔ نے وائس میسج کے ذریعے اپنی بیوی مسماۃ۔۔کو تین دفعہ مذکور الفاظ" میں تجھے طلاق دے رہا ہوں" کہہ دیئے ہوں، جس کا باقاعدہ ریکارڈ بھی موجود ہو، تو اس کی وجہ سے اس کی بیوی مسماۃ ۔۔۔ پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا، جبکہ عورت عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
قال اللہ تعالی: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ (سورۃ البقرۃ ایة 230)۔
وفی الدرالمختار: (والبدعي ثلاث متفرقة أو ثنتان بمرة أو مرتين) في طهر واحد (لا رجعة فيه، أو واحدة في طهر وطئت فيه،الخ (2/233)۔
وفیہ ایضاً: (وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب (لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذ كما سنحققه (بها) أي بالثلاث (الی قولہ) (حتى يطأها غيره ( الی قولہ )بنکاح (وتمضي عدته) أي الثاني الخ (409)۔
وفیہ ایضاً: (وتجب) العشرة (إن سماها أو دونها و) يجب (الأكثر منها إن سمى) الأكثر ويتأكد (عند وطء أو خلوة صحت) من الزوج (أو موت أحدهما)الخ (3/102)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0