کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمیٰ کامران نے کچھ گھریلو ناچاقی اور پنچائیت کی بنا پر اپنی بیوی مسماۃ ساجدہ بنت علاءالدین کو تین مرتبہ طلاق دی ، طلاق کے الفاظ یہ تھے، علاءالدین کی بیٹی میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، یہ جملہ تین مرتبہ کہا ، اب وہ کہہ رہی ہے کہ میں نے یہ الفاظ نہیں سنے ہیں تو معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں طلاق واقع ہوئی کہ نہیں اور اب آگے ہمارے لئے کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ طلاق واقع ہونے کے لئے بیوی کا طلاق کے الفاظ سننا شرعاً ضروری نہیں ہے ، اس کے بغیر بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے ، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل نے جب اپنی بیوی کو مذکور الفاظ "علاءالدین کی بیٹی میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " تین مرتبہ کہہ دیے تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم دوبارہ عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
قال اللہ تعالیٰ: الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ( الی قولہ) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ (سورۃ البقرہ آیۃ 228)۔
وفی الدرالمختار: (وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل وعم التفريق،الخ ( ج3 ص268 باب الطلاق غیر المدخول بہا ط سعید)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛الخ (ج3 ص 187 فصل وأما حکم البائن ط سعید)۔
وفی ردالمحتار: (قوله لتركه الإضافة) أي المعنوية (الی قولہ) ولا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه؛ لما في البحر لو قال: طالق فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته.الخ ( ج3 ص 248 باب الصریح ط سعید)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0