میرے شوہر کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہے وہ نشہ کرتے ہیں آئس, پاؤڈر,چرس ,سگریٹ بہت زیادہ کرتے ہیں اور چار دن سے جاگے ہوئے تھے، بہن کے اشتعال دلانے پر میرے شوہر نے مجھے کہا طلاق دیتا ہو ں دوسری مرتبہ طلاق جو کہا میں کمرے سے چلی گئی تھی پھر تیسری دفعہ کلمہ پڑھ کے طلاق کہا میں کمرے میں موجود نہیں تھی کیا ایسے میں ہو گئی جب کہ میرے شوہر ، ذہنی توازن کی اور نشے کی دوائی کھاتے ہیں؟
واضح ہو کہ نشہ کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے، اور وقوعِ طلاق کے لۓ بیوی کا شوہر کے زبان سے الفاظِ طلاق سننا ضروری بھی نہیں، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب سائلہ کے شوہر نے تین مرتبہ الفاظِ طلاق استعمال کردیے تو اس سے سائلہ پرتین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، جب کہ سائلہ ایامِ عدت کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما فی الدر المختار: (ویقع طلاق کل زوج بالغ عاقل) ولو تقدیرًا . بدائع لیدخل السکران (إلی قولہ) (أو سکران) ولو بنبیذ أو حشیش أو أفیون أو بنج زجرًا، بہ یفتی تصحیح القدوری۔ اھـ وفی الرد: تحت (قولہ لیدخل السکران) فإنہ فی حکم العاقل زجرًا لہ۔ اھـــ وفیہ أیضًا: تحت (قولہ أو سکران) السکر (إلی قولہ) وبین فی التحریر حکمہ أنہ إن کان سکرہ بطریق محرم لا یبطل تکلیفہ فتلزمہ الأحکام وتصح عباراتہ من الطلاق والعتاق والبیع والإقرار۔ اھـ (ج۳، ص۲۳۵ إلی ۲۳۹)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0