مفتی صاحب بہت ضروری سوال ہے کہ میاں بیوی کے درمیان بےپناہ محبت ہو اور غصے میں شیطان نے طلاق مغلظ کروا دی اب دونوں کو پھچتاوا ہے اور گناہوں میں پڑنے کا ڈر ہے اور رہ بھی نہیں سکتے ایک دوسرے کے بغیر اب یہ حلالہ کرتے ہیں شرط کے ساتھ کیوں کے اس کے بغیر کوئی حل نہیں چونکہ اس حلالے پر لعنت تو ہے پر اس کے بغیر کوئی حل نہیں اور دونوں کی محبت اور گناہوں سے بچنے کے لیے تو یہ حلالہ کر کے اللہ سے توبہ اور مافی مانگ لی جاۓ تو کیا ایسا کرنا درست ہے؟شرعی طور پر وضاحت فرما دیں جزاک اللہ
شوہر اور اس کی مطلقہ بیوی کے لئے کسی شخص کے ساتھ طلاق دینے کی شرط لگا کر اس کے ساتھ نکاح کروانا تو شرعا جائز نہیں بلکہ ایسے عمل کرنے اورکروانے والے پر احادیث مبارکہ میں لعنت کی گئی ہے،البتہ بغیر کسی شرط کے اگر مطلقہ بیوی عدت کے بعد کسی شخص کے ساتھ باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں حق مہر کے تقرر کے ساتھ نکاح کرلے ،اور وہ شخص حقوق زوجیت(ہمبستری) کے بعد بیوی کو طلاق دیدے یا اس کا انتقال ہوجائے تو اس کی عدت مکمل ہونے کے بعد اگر وہ عورت پھرسابقہ شوہر کے ساتھ نکاح کرنا چاہے تو شرعا اس میں کوئی حرج نہیں۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0