کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمی ٰ "زاہد علی ولد حکیم خان کا نکاح مسماۃ "نیلم بنت عنایت" کیساتھ ہوگیا تھا آج سے ڈیڑھ سال قبل،میں شراب پی کرگھر آیا تو میری چھوٹی بچی کی ٹانگیں جل گئیں تھیں، جس پرمجھے غصہ آیا اور میں نے بیوی کو مارا جس سے گھر میں لڑائی جھگڑا ہوا، مجھے یاد نہیں ہے، لیکن موقع پرموجود گھروالے کہہ رہے ہیں کہ تو نے تین مرتبہ طلاق کےالفاظ بولے ہیں ”دا ما طلاقہ کڑہ“(اس کو میں نے طلاق دے دی ) اور اس وقت بیوی تین مہینے کے حمل سے تھی اور پھر تقریباً چار مہینے کا حمل ضائع ہوگیا تھا ، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوگئی ہیں ؟ اور اب ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟
واضح ہو کہ نشے کی حالت میں طلاق دینے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے ، لہذا سوال میں ذکرکردہ تفصیل کے مطابق اگر سائل مسمیٰ”زاہد علی “نے مذکورالفاظ ”دا ماطلاقہ کڑہ“(اس کو میں نے طلاق دے دی ) تین مرتبہ کہہ دیئےہوں ،جس پر گھر کے افراد گواہ ہوں ،تواگر چہ اس وقت سائل نشے کی حالت میں تھا اور سائل کو مکمل صورتحال یاد نہیں ہے ، تب بھی سائل کی بیوی پرتینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہوچکی ہے ،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور بغیر حلالۂ شرعیہ دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہذا دونوں میاں بیوی پرلازم ہےکہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گارہونگے،جبکہ چار ماہ کے حمل کے اگر اعضاء میں سے کوئی عضوء بنا ہوا تھا، تواسقاطِ حمل (حمل کے ضائع ہونے )سے عورت کی عدّت بھی مکمل ہوچکی ہے، اب وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہےکہ عورت اپنےشوہرسےعلیحدگی اورعدت طلاق گزارنےکےبعدبغیرکسی شرط کےکسی دوسرےمسلمان سےنکاح کرےاور حقوقِ زوجیت اداکرے ، چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اس سےایک مرتبہ ہمبستری(جو کہ حلالۂ شرعیہ کےتحقق کےلئےضروری ہے)کےفوراً بعدیا پھرازدواجی زندگی کےکچھ عرصہ بعدطلاق دیدے ، یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہوجائے ، بہر صورت اس کی عدت گزارنے کےبعداگروہ پہلےشوہرکےنکاح میں آنا چاہے،اورپہلاشوہربھی اس کورکھنے پر رضامندہو ، تو نئے مہر کےساتھ دوگواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِنکاح کرکےباہم میاں بیوی کی حیثیت سےزندگی بسرکرسکتے ہیں،تاہم حلالہ اس شرط کےساتھ کرناکہ زوجِ ثانی بیوی کونکاح کےبعدطلاق دےگا ، تاکہ وہ زوجِ اول کےلئےحلال ہوجائے , مکروہ ہے،جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،البتہ بغیرکسی شرط کےا س کےساتھ نکاح کرنابلاشبہ جائزاوردرست ہے۔
قال اللہ تعالیٰ : فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الآیہ (البقرۃ:230)۔
و فی صحیح البخاری : قال الليث ، عن نافع: كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: لو طلقت مرة أو مرتين ، فإن النبي صلى الله عليه و سلم أمرني بهذا ، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرہ "(5264)۔
و فی رد المحتار : (قوله بنبيذ) أي سواء كان سكره من الخمر أو الأشربة الأربعة المحرمة أو غيرها من الأشربة المتخذة من الحبوب و العسل عند محمد . قال في الفتح : و بقوله يفتى لأن السكر من كل شراب محرم . و في البحر عن البزازية المختار في زماننا لزوم الحد و وقوع الطلاق . اهـ.(3/239)۔
وفیہ ایضاً : (قوله : وضع حملها) أي بلا تقدير بمدة سواء ولدت بعد الطلاق ، أو الموت بيوم ، أو أقل جوهرة ، و المراد به الحمل الذي استبان بعض خلقه ، أو كله ، فإن لم يستبن بعضه لم تنقض العدة لأن الحمل اسم لنطفة متغيرة ، فإذا كان مضغة ، أو علقة لم تتغير ، فلا يعرف كونها متغيرة بيقين إلا باستبانة بعض الخلق بحر عن المحيط . و فيه عنه أيضا أنه لا يستبين إلا في مائة وعشرين يوما . و فيه عن المجتبى أن المستبين بعض خلقه يعتبر فيه أربعة أشهر ، وتام الخلق ستة أشهر ، (5/511)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0