ترجمہ: میں اپنی طلاق کے بارے میں پوچھنا چاہتی ہوں ،میرے شوہر نے مجھے پہلی طلاق 12 ستمبر 2023ء کو میرے ملک کے یونین کونسل کے ذریعے تحریری شکل میں دی ، اس نے مجھے اس کے بارے میں نہیں بتایا اور مئی سے 25 جون تک میرے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا ،پھر اس نے 31جولائی 2023ء کو دوسری طلاق دی اور مجھے ایک ہی دن میں دونوں طلاقوں کے بارے میں معلوم ہوا ،دوسری طلاق دینے کے بعد اس کے 15 دن تک مجھ سے رابطہ نہیں کیا جن 15 دنوں میں مجھے ماہواری بھی آئی تھیں ، 15 دن کے بعد اس نے میرے ساتھ کئی مرتبہ جنسی تعلق قائم کیا،آخری مرتبہ 6 ستمبر 2023ء کو میرے ساتھ جنسی تعلق قائم کی اور 9 ستمبر 2023ء کو تیسری طلاق دی ،اس وقت میں حیض میں تھی ، اب میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا میرا نکاح ختم ہوگیا ہےاور میں اپنے شوہر کی بیوی نہیں ہوں ،برائے مہربانی اس کے بارے میں میری رہنمائی فرمائیں ،اگر ہوئی ہے تو میری عدت کی مدت کیا ہوگی۔
سائلہ کو اس کے شوہر نے وقتاً فوقتاً پہلی اور دوسری مرتبہ صریح الفاظ کے ذریعےدو طلاقیں دیدی ہوں،اور پہلی اور دوسری طلاق کے بعد دورانِ عدت میں ہی میاں بیوی نے ہمبستری کرلی ہو، تو ایسی صورت میں اس سے شرعاً رجوع ہوچکا تھا اور دونوں میاں بیوی کا نکاح حسب سابق برقرارتھا،تاہم آئندہ کے لئے سائلہ کےشوہر کو فقط ایک طلاق کا اختیار حاصل تھا،لیکن اس کے بعد 9 ستمبر 2023ء جب سائلہ کے شوہر نے بقیہ ایک طلاق بھی دیدی تو اس سے سائلہ پر مجوعی طور پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور بغیرحلالۂ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہےکہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ،ورنہ دونوں سخت گنہگار ہونگے ، جبکہ سائلہ ایامِ عدت گزارنےکے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدتِ طلاق گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے نکاح کرے اور حقوقِ زوجیت ادا کرے ، ایسا کرنے سے وہ اس دوسرے شخص کی بیوی بن جائے گی اب اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالۂ شرعیہ کے لئے ضروری ہے) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصے بعد طلاق دیدے یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہو جائے،بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اس کو رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی نکاح کے بعد طلاق دے تاکہ زوج ِاول کے لئے عورت دوبارہ حلال ہو جائے، مکروہ تحریمی ہے اور احادیثِ مبارکہ میں ایسے عمل کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے البتہ بغیر شرط کے بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
کما فی تنزیل القرآن : {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ {۔(البقرہ :230)۔
وفي صحيح البخاري: وقال الليث: حدثني نافع، قال:" كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: لوطلقت مرة او مرتين فإن النبي صلى الله عليه وسلم امرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا، حرمت حتى تنكح زوجا غيرك".(5264)۔
وفی الھندیۃ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نکاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية۔(473/1)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0