ایک بندے نے گواہوں کی موجود گی میں اپنی بیوی کو ایک طلاق دی اور کہا کہ ایک طلاق ہو گئی ہے , لیکن اسکے بعد وہ الگ نہیں رہے 10 ماہ بعد شوہر نے 2 طلاقیں ایک ساتھ دیں تنہائی میں , لیکن بعد میں وہ اس بات سے انکاری رہا اور عرصہ دس سال سےبحیثیت میاں بیوی کے رہ رہے ہیں , بیوی اس عمل پہ راضی نہیں لیکن مجبورہے تو کیا حکم ہے اس رشتے کے بارے میں ؟
مذکور شخص نے اگر اپنی بیوی کو واقعۃً تین طلاقیں دیدی ہوں، تو ایسی صورت میں دونوں کا میاں بیوی کی طرح رہنا شرعاً جائز نہیں جس سے اجتناب لازم ہے، تاہم اگر شوہر طلاق دینے سے انکاری ہو تو بیوی کو چاہیئے کہ اپنے شوہر سمیت کسی قریبی مستند دارالافتاء میں حاضر ہو کر وہاں موجود مفتیانِ کرام کے سامنے مسئلہ کی مکمل وضاحت کر کے ان سے حکمِ شرعی معلوم کریں۔
ففى تفسير القرطبي : قوله تعالى: (فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره(3/147)۔
وفی الھندیة: (وأما حكمه) فوقوع الفرقة بانقضاء العدة في الرجعي وبدونه في البائن كذا في فتح القدير. وزوال حل المناكحة متى تم ثلاثا كذا في محيط السرخسي. اھ (1/348)۔
وفیھاایضاً: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القديراھ (1/473)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0