کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام کہ اگر ایک حنفی اپنی بیوی کو تین طلاق ایک مجلس میں دے ، اور پھر جدائی کے کچھ دن بعد اپنی بیوی کو غیر مقلدین کے فتوی کے مطابق واپس لے کر گھر آجائے، تو اس صورت میں محلے کے امام کی کیا ذمہ داری بنتی ہے اور اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے؟
تین طلاقیں خواہ ایک مجلس میں( ایک ہی جملہ میں جیسے تجھے طلاقیں یا الگ الگ جملہ جیسے تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے کے ساتھ) دی جائیں یا الگ لگ مجلس میں دی جائیں، قرآن وسنت کی روشنی میں چاروں ائمہ مجتہدین کے نزدیک واقع ہوجاتی ہیں، ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقوں کو ایک شمار کرنا (جیسا کہ غیر مقلدین کرتے ہیں) احادیثِ صحیحہ، صریحہ کی روشنی میں قطعًا غلط اور روایت ودرایت حدیث سے جہالت پر مبنی ہے۔
تین طلاقوں کے واقع ہوجانے کے بعد کسی کے غلط فتویٰ دینے یا مذہب چھوڑنے سے بھی وہ ختم نہیں ہوتیں ، بلکہ برقرار رہتی ہیں ، جن لوگوں نے احادیث صحیحہ صریحہ کے خلاف فتویٰ دے کر تین طلاقوں کو باطل قرار دیا ہے ، انہیں اور اسی طرح شخصِ مذکور کو مطلقہ ثلاث سے علیحدگی اختیار کرنا لازم ہے اگر وہ اس ناجائز حرکت سے باز نہ آئے تو برادری والے اور دیگر متعلقین اس سے قطع تعلق اور اس کے خلاف عدالتی کاروائی بھی کرسکتے ہیں ، اور امام محلہ کی اتنی ذمہ داری ہے کہ مسئلہ معلوم ہونے کی صورت میں صحیح حکمِ شرعی سے آگاہ کرے۔
وفی تفسیر القرطبی: قوله تعالیٰ: وضاقت علیهم الارض بما رحبت الایة لانهم كانوا مهجورین لا یعاملون ولا یكلمون فی هذا دلیل علی هجران اهل المعاصی حتی یتوبوا الخ(٢٨٧/٨) واللہ اعلم
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0