محترم مفتی صاحب، کیا میں ایک ہی وقت میں ایک ہی جگہ پر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے سکتاہوں؟
قرآن و سنت اور فقہ کی روشنی میں ایک مجلس کی تین طلاقیں خواہ ایک جملہ سے دی ہوں جیسے ’’تجھے تین طلاق ہیں‘‘ یا الگ الگ جملوں سے دی ہوں جیسے ’’تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے‘‘۔ ان دونوں صورتوں میں تین طلاقیں شمار ہوں گی اور تینوں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوجائےگی، جس کے بعد نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی بغیر حلالۂ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقدِ نکاح ہوسکتا ہے۔
قال اللّٰہ تعالیٰ : اَلطَّلاَقُ مَرَّتٰنِ (الہ قولہ) فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہٗ مِنْ بَعْد حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ الایۃ(البقرۃ آیت : 229،230)
وقال اللیث عن نافع کان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: قال لوطلقت مرۃ أو مرتین فإن النبي صلی اﷲ علیہ وسلم أمرني بہذا فإن طلقہا ثلاثا حرمت حتی تنکح زوجا غیرہ۔ (بخاري شریف، کتاب الطلاق ج:2,ص:292)
وفی تنویرالابصار:ویقع طلاق کل زوج بالغ عاقل ولوعبدااومکرھا اوھازلا اوسفیھا او سکرانا اھ(ج:3،ص:235)
وفی الھدایۃ:وان کان الطلاق ثلاثافی الحرۃ واثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاغیرہ نکاحا صحیحاً ویدخل بھا ثم یطلقھا اویموت عنھا اھ(ج:2،ص:399)
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0