کیا طلاق کے بعد والدین بچوں کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے ایک مکان میں رہائش اختیار کرسکتے ہیں؟
اگرشوہر اپنی بیوی کو تین طلاق دیکر اپنی نکاح کی بندھن سے آزاد کردے، تو حرمت مغلظہ ثابت ہونے کی وجہ سے دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی بن جاتے ہیں،اور اجنبی مرد وعورت کے لیے ایک مکان ایک ساتھ رہائش اختیارکرناشرعا جائز نہیں، اس لیے بچوں کا بہانہ بناکر نامحرم مرد اور عورت کا ایک ساتھ رہنا جائز نہیں، بلکہ د دونوں کے لیے فورا ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرنا لازم اور ضروری ہے۔
قال اللّٰہ تعالیٰ :
اَلطَّلاَقُ مَرَّتٰنِ (الہ قولہ) فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہٗ مِنْ بَعْد حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ الایۃ(البقرۃ آیت : 229،230)
وفی صحیح البخاری:
وقال اللیث عن نافع کان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: قال لوطلقت مرۃ أو مرتین فإن النبي صلی اﷲ علیہ وسلم أمرني بہذا فإن طلقہا ثلاثا حرمت حتی تنکح زوجا غیرہ۔ (کتاب الطلاق ج:2,ص:292)
وفی الھدایۃ:وان کان الطلاق ثلاثافی الحرۃ واثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاغیرہ نکاحا صحیحاً ویدخل بھا ثم یطلقھا اویموت عنھا اھ(ج:2،ص:399)
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0