میرے شوہر نےمجھے آٹھ مہینے کی حاملہ ہونے کی حالت میں طلاق دے دی 3 مرتبہ،پہلی والی رک کر پھر دو دفعہ باقی بھی بول دیا،میں تجھے طلاق دیتا ہوں،میں تجھے طلاق دیتا ہوں،میں تجھے طلاق دیتا ہوں،ان کو اور مجھے یہ لگتا ہے کہ حاملہ ہونے کی حالت میں طلاق نہیں ہوتی،میری یہ تیسری شادی ہے،میرے پہلے شوہر سے ایک 12 سال کا بیٹا ہے،دوسرے سے کوئی اولاد نہیں ہے،اور یہ تیسری محبت کی شادی ہے،میں اپنے ہونے والے بچے کی وجہ سے پریشان ہوں،میں ان سے رجوع کرنا چاہتی ہوں،آپ میری مدد کریں،میں بہت پریشان ہوں،تیسری شادی تھی یہ،میں انہیں چھوڑ نہیں سکتی،آج پندرہ دن ہوگئے،15 نومبر کو طلاق دی تھی،میری مدد کیجیئے،کوئی گنجائش نکالیے،میں اپنے شوہر کو بہت چاہتی ہوں ان کے بغیر نہیں رہ سکتی۔
واضح ہوکہ حالتِ حمل میں طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے،لہذا سائلہ کے شوہر نے اگر سوال میں درج الفاظ تین مرتبہ بول دیے ہیں تو اس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا ا ور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدنکاح بھی نہیں ہوسکتا ،جبکہ سائلہ ایام عدت جوکہ اس صورت میں وضعِ حمل ہے،گزار کر اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
قال اللہ تعالی: {الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (229) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة: 229، 230]۔
وفی الفتاوى الهندية: إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية(1/ 473)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0