السلام علیکم
میرا سوال یہ ہے کہ میری ایک دوست ہے ، جس کو اس کے شوہر نے طلاق دی , اس کے کہنے پر 3 لفظ ادا کئے پھرکچھ دن بعد وہ ساتھ رہنے لگے ، دوبارہ (3) بار طلاق دی اور ساتھ رہنے لگے ، پھر تیسری بار اس کے بھائی کے سامنے کہا اگر یہ کسی غلط جگہ ہے تو میری طرف سے (3) طلاقیں ، اس کے بعد بھی یہ ساتھ رہنے لگے ، اور اب وہ حمل سے ہے پانچ مہینے کا ، سوال یہ ہے کہ طلاق ہو گئی ان کی ؟ اور یہ بچہ حلال کا ہے یا حرام کا ؟ اور آگے قرآن وحدیث کی روشنی سے ہمیں کیا کرنا چاہیئے ؟
نوٹ: فون کے ذریعے مستفتی سےمعلوم کیا گیا کہ پہلے والے جو تین الفاظ طلاق کے بولے ہیں وہ اس طرح کہ میں تجھے طلاق دیتا ہوں۔
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس طور پر کہ سائلہ کے شوہر نے اسے ان الفاظ میں کہ میں تجھے طلاق دیتا ہوں کہہ تین طلاقیں دیدی ہوں تو اس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی تھیں، جس کے بعد ان کا بغیر حلالۂ شرعیہ کے باہم رجوع کر کے میاں بیوی کی طرح رہنا قطعاً نا جائز اور حرام تھا ، جبکہ اس کے بعد دی ہوئی طلاقیں لغو ہیں ، لہذا ان پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحد گی اختیار کریں ، اور اب تک نکاح کے نام سے ساتھ رہنے کی بناء پر جو گناہ سرزد ہوا ہے اس پر بصدق ِدل تو بہ واستغفار کریں، جبکہ شوہر اگر تین طلاقیں دینے کا اقراری ہو اور اسے اس بات کا بھی علم تھا کہ اسکی وجہ سے نکاح ختم ہو چکا ہے اور پھر بھی اس نے بیوی کیساتھ تعلق رکھا اور اسکی وجہ سے حمل ٹھہرا تو یہ حمل حرام کا کہلائے گا اور شوہر سے اس کا نسب ثابت نہ ہو گا البتہ اگر سوال کی نوعیت کچھ اور ہو تو اسکی وضاحت کیساتھ سوال دوبارہ ای میل کر دیں اس پر غور و فکر کے بعد ان شاء اللہ حکمِ شرعی سے آگاہ کر دیا جائے گا۔
كما في الفتاوى الهندية : (وأما البدعي) فنوعان بدعي لمعنى يعود إلى العدد وبدعي لمعنى يعود إلى الوقت (فالذي) يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثا في طهر واحد أو بكلمات متفرقة أو يجمع بين التطليقتين في طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمتين متفرقتين فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيا.(1/349)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0