کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ مسمی ۔۔۔نے اپنی بیوی کی ضد اور با ر بار طلاق کا مطالبہ کرنے پر غصہ میں آکر تین مرتبہ یہ الفاظ بولد ئیے ہیں ،طلاق ، طلاق ، طلاق " اب معلوم یہ کرنا ہے کہ آیا یہ طلاق ہے یا خلع ؟ اور ایسی صورت میں اب ہمارے لیے کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ غصے کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا صورت مسئولہ میں سائل نے جب اپنی بیوی کی ضد اور بار بار طلاق کا مطالبہ کرنے پر غصے میں آکر مذکور الفاظ " طلاق ، طلاق طلاق کہہ دیئے ، تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، جبکہ سائل کی بیوی عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
قال اللہ تعالی: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ (سورۃ البقرۃ ایة 230)۔
و فی ردالمحتار: تحت (قوله وفي القاموس دهش) (الی قولہ) ويقع الطلاق من غضب خلافا لابن القيم اهـ وهذا الموافق عندنا لما مر الخ (3/244)۔
وفی الدر المختار: (والبدعي ثلاث متفرقة أو ثنتان بمرة أو مرتين) في طهر واحد (لا رجعة فيه، أو واحدة في طهر وطئت فيه، الخ (3/232)۔
وفیہ ایضاً: (وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب (لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذ كما سنحققه (بها) أي بالثلاث (لو حرة وثنتين لو أمة) ولو قبل الدخول، وما في المشكلات باطل، أو مؤول كما مر (حتى يطأها غيره ولو) الغير (مراهقا) يجامع مثله الخ (3/409)۔
وفی بدائع الصنائع: وحال الغضب ومذاكرة الطلاق دليل إرادة الطلاق ظاهرا فلا يصدق في الصرف عن الظاهر قال: وإن نوى بائنا فبائن. وإن نوى ثلاثا فثلاث؛ لأن هذا اللفظ وإن كان صريحا الخ (3/102)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0