کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے شوہر نے اپنی والدہ کوفون کر کے کہا کہ میری بیوی سے بات کرائیں، جب انہوں نے بات کی تو مجھے انہوں نے تین بار طلاق دیدی، اور یہ کہا کہ میں تجھے طلاق دیتا ہوں، لہذا آپ صاحبان رہنمائی فرمائیں کہ طلاق واقع ہوگئی ہے یا نہیں؟
نوٹ: اس سلسلے میں شوہر سے فون پر بات ہوئی شوہر نے مذکور الفاظ تین بار کہنے کا اقرار کیا ۔
واضح ہو کہ موبائیل فون کے ذریعے طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں جب سائلہ کے شوہر نے سائلہ کے ساتھ بات چیت کے دوران مذکور الفاظ " میں تجھے طلاق دیتا ہوں" تین مرتبہ کہہ دیئے تو اس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور نہ ہی بغیر حلالہ شرعیہ کے باہم عقد نکاح ہوسکتا ہے، جبکہ سائلہ ایام عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کمافی الدرالمختار: (والبدعي ثلاث متفرقة أو ثنتان بمرة أو مرتين) في طهر واحد (لا رجعة فيه، الخ (3/232)۔
وفی تنویر الابصار: (وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) لا ینکح مطلقة من نکاح صحیح نافذ بھا أی بالثلاث لوحدۃ حتی یطأ ھا غیرہ بنکاح وتمضی عدتہ أی الثانی الخ (3/409)۔
وفی الھندیة: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية الخ (1/473)۔