محترم مفتی صاحب!
میرا سوال یہ ہے کہ:میرے والد صاحب نے سن 2018 میں اپنی دوسری بیوی کو تحریری طور پر ایک ہی وقت میں تین طلاقیں لکھ کر اور دستخط کر کے ان کے گھر بھجوا دی تھیں۔ اس کے بعد کوئی رجوع نہ زبانی ہوا اور نہ تحریری، اور نہ ہی گواہوں کے سامنے۔اب طلاق یافتہ عورت کے گھر والے یہ کہتے ہیں کہ چونکہ وہ اہلِ حدیث ہیں، اس لیے ایک مجلس کی تین طلاق ایک ہی طلاق شمار ہوتی ہے اور ان کے بقول میرے والد نے رجوع کر لیا تھا، حالانکہ ہمارے علم میں ایسا کوئی رجوع ثابت نہیں۔مزید یہ کہ نکاح کے وقت شرط رکھی گئی تھی کہ اگر شوہر (میرے والد) عورت کو چھوڑیں گے تو مکان عورت کو دینا ہوگا۔
براہِ کرم درج ذیل امور پر شرعی رہنمائی فرمائیں:کیا مذکورہ صورت میں یہ نکاح شرعاً برقرار ہے یا طلاقِ مغلظہ واقع ہو چکی ہے؟اگر طلاق واقع ہو چکی ہے تو کیا رجوع بغیر گواہوں اور بغیر اطلاع کے معتبر ہو سکتا ہے؟نکاح میں لگائی گئی مکان والی شرط شرعاً لازم ہے یا نہیں؟اگر نکاح شرعاً باطل یا ختم ہو چکا ہو تو کیا مکان دینا واجب ہوگا؟ جزاکم اللہ خیراً۔
صورت مسئولہ میں اگر واقعۃً سائل کے والد نے ان کی والدہ کو تحریری طور پر تین طلاقىں دی ہوں تو چونکہ قرآن و سنت اور فقہ کی روشنی میں زبانی یا تحریری طور پر دی گئی تین طلاقیں تین ہى شمار ہوتی ہیں ،جس پر حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعینِ عظام رحمہم اللہ تعالیٰ کا اتفاق ہے،اور امت کے چاروں اماموں یعنی حضرت امام اعظم ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کا بھی یہی مسلک ہے ، لہذا سائل كى والد ه پر تینوں طلاقيں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چكى ہے، اب رجوع نہيں ہو سکتا ہے اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی شرعاً جائز نہیں ، لہذا اگر دونوں نے طلاق کے بعد عليحدگی اختیار نہیں کی ہوں تو دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحد گی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، اور اب تک نکاح کے نام پر ايك ساتھ رہنے کی بناء پر جو گناہ سرزد ہوا ہے، اس پر بصدق ِدل تو بہ واستغفار کریں، جبکہ عورت ایام عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی شرعا آزاد ہے ۔
جہاں تک طلاق کی صورت میں بیوی کو مکان دینے کا تعلق ہے تو واضح ہو کہ یہ مکان اگر حقِ مہر کا حصہ نہ ہو اور ابھی تک شوہر نے مکان بیوی کے حوالے نہ کیا ہو تو نکاح کے موقع پر لگائی گئی شرط، شرط فاسد کے حکم میں ہے، کیونکہ شرعًا یہ از قبیل جرمانہ قرار پائے گی اور کسی بھی شخص پر تعزیر مالی لگانا شرعا جائز نہیں، لہذا اب علیحدگی کی صورت میں شوہرپر بیوی کو مکان دینا لازم اور ضروری نہیں ، اور سائل کی سوتیلی والدہ کو بھی اس قسم کے مطالبہ سے احتراز لازم ہے۔
كما في آلقران الكريم: ﴿فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ﴾ [سورة البقرة: 230]
وفي صحيح البخاري: عن عائشة رضي الله عنها، «أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول. اهـ [كتاب الطلاق، باب من أجاز طلاق الثلاث، رقم الحديث (٥٢٦١)]
وفي رد المحتار: وفي الزاهدي أنه ثابت بإجماع الأمة. وفي المنية أن سعيدا رجع عنه إلى قول الجمهور، فمن عمل به يسود وجهه ويبعد، ومن أفتى به يعزر، وما نسب إلى الصدر الشهيد فليس له أثر في مصنفاته بل فيها نقيضه. وذكر في الخلاصة عنه أن من أفتى به فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين، فإنه مخالف الإجماع ولا ينفذ قضاء القاضي به وتمامه فيه. اهـ [كتاب الطلاق، باب الرجعة، مطلب في العقد على المبانة، ج:3 ص:410 ط: سعيد)]
وفي الفتاوى الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير. اهـ [الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج:1 ص: 473 ط: رشيدية)]
وفي تبيين الحقائق: وشرط فيه شرط فاسد فيصح العقد، ويبطل الشرط؛ إذ النكاح لا يبطل بالشروط الفاسدة فصار كما لو تزوجها على أن يطلقها بعد شهر. [كتاب النكاح، النكاح المؤقت، ج:2 ص:115 الناشر: المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة)]