زید نےگواہانِ شرعی کے ساتھ خفیہ نکاح کیا تھا، تین سال بعداپنی اسی بیوی ہندہ کو ایک طلاق دے دی ،لیکن اسے آگاہ نہیں کیا،اور اس سے فون پہ بات کرتا رہا،یہاں تک کہ اس کی عدت گذر گئی، پھر زید نے ایک دن فون پہ ہی اس سے کہا کہ میں دو دوستوں کے سامنے قبول کرنا چاہتا ہوں تاکہ بات کرتے ہوئے انھیں غیر محرم کا شک نہ ہو، ہندہ نے کہا جیسے تمھیں بہتر لگے کر لو، زید نے دو شرعی گواہوں کے سامنے ہندہ کی تعریف کی انھوں نے کہا کہ اسی سے نکاح کر لو،زید نے کہا ٹھیک ہے میں نے اسے اپنے نکاح میں لے لیا۔
کیا زید کا یہ عمل درست ہے؟ اور کیا دوبارہ یہ نکاح منعقد ہوا یا نہیں ،اگر ہو گیا تو کیا زید کو تنبیہ کرکے طلاق دلوا دینی چاہیے؟ہندہ کا بھی مطالبہ ہے کہ مجھے ایک طلاق دے دو اگر گھر والے شادی کے لیے تیار ہو گئے تو ٹھیک ورنہ تم اپنے راستے میں اپنے راستے،ہندہ کو ابھی تک پہلی طلاق کا علم نہیں ،جو بھی حکم شرع ہے جواب عنایت فرمائیں ۔
سوال میں اس بات کا ذکر نہیں کہ زید نے جس لڑکی (ہندہ )سے گواہوں کی موجودگی میں خفیہ نکاح کیا تھا تو زید اس لڑکی کا کفو ااور ہم پلہ تھا یا نہیں تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم اگر یہ نکاح باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں کفو ا میں مہر مثل پر ہوا تھا تو اگرچہ لڑکے لڑکی کیلئے اس طرح نکاح کرنا انتہائی معیوب اور نامناسب عمل تھا تاہم شرعاً یہ نکاح منعقد ہو چکا تھا ،لیکن اس کے بعد اگر زید نے ہندہ کو طلاق دے دی ہو ،(اگرچہ ہندہ کو اس کا علم نہیں تھا )تو اس سے ہندہ پر ایک طلاق واقع ہو چکی تھی، پھر اگر زید نے عدّت میں رجوع نہ کیا ہو تو عدّت گزرنے سے یہ طلاق بائن بن چکی ہے اور دونوں کا نکاح بالکلیہ ختم ہو چکا ہے ،اس کے بعد زید نے موبائل فون پر جو کہا کہ ”میں نے اسے( ہندہ)اپنے نکاح میں لے لیا “اس سے شرعا ًنکاح منعقد نہیں ہوا، لہذا زید پر لازم ہے کہ ہندہ کو حقیقی صورتحال سے آگاہ کر کے اس سے علیحدگی اختیار کریں ورنہ زید سخت گناہ گار ہوگا۔
کما فی الدر المختار: ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين، الخ (کتاب النکاح، ج 3، ص 14، ط: ایچ ایم سعید)-
وفیہ ایضاً: (وشرط سماع كل من العاقدين لفظ الآخر) ليتحقق رضاهما، (و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) على الأصح (فاهمين) أنه نكاح على المذهب؛ بحر، الخ (کتاب النکاح، ج 3، ص 21-23، ط: ایچ ایم سعید)-
وفی الھندیۃ: يصح التوكيل بالنكاح، وإن لم يحضره الشهود، كذا فی التتار خانيۃ ناقلا عن خواهر زاده، الخ (کتاب النکاح، الباب السادس فی الوكالة بالنكاح وغيرها، ج 1، س 294، مکتبۃ ماجدیۃ)-
وفی الھندیۃ: امرأة وكلت رجلا بأن يزوجها من نفسه فقال: زوجت فلانة من نفسی يجوز، وإن لم تقل: قبلت كذا فی الخلاصة،الخ (کتاب النکاح،الباب السادس فی الوكالة بالنكاح وغيرها، ج 1، ص 295، ط: مکتبۃ ماجدیۃ)-
وفی البدائع: قال أصحابنا: ينعقد بعاقد واحد إذا كانت له ولاية من الجانبين، سواء كانت ولايته أصلية، كالولاية الثابتة بالملك والقرابة، أو دخيلة كالولاية الثابتة بالوكالة؛ (إلی قولہ) أو كان أصيلا ووليا كابن العم إذا زوج بنت عمه من نفسه، أو كان وكيلا من الجانبين، أو رسولا من الجانبين، أو كان وليا من جانب ووكيلا من جانب آخر، أو وكلت امرأة رجلا ليتزوجها من نفسه، أو وكل رجل امرأة لتزوج نفسها منه، وهذا مذهب أصحابنا الثلاثة، الخ (کتاب النکاح، فصل رکن النکاح، ج 2، س 231، ط: ایچ ایم سعید)-
وفی البدائع: أما الطلاق الرجعی: فالحکم الأصلیّ لہ نقصان العدد، فأما زوال الملک و حلّ الوطء فلیس بحکم أصلیّ لہ لازم حتّی یثبت للحال، و إنّما یثبت فی الثانی بعد إنقضاء العدّۃ، فإن طلّقھا و لم یراجعھا بل ترکھا حتّی إنقضت عدّتھا بانت، و ھذا عندنا، الخ (فصل فی حکم الطلاق، ج 4، ص 469، ط: دار الحدیث قاھرۃ)-
وفی الھندیۃ: (ومنها) رضا المرأة إذا كانت بالغة بكرا كانت أو ثيبا فلا يملك الولیّ إجبارها على النكاح عندنا، كذا فی فتاوى قاضی خان، الخ (کتاب النکاح، الباب الأول فی تفسير النكاح شرعا وصفته وركنه وشرطه وحكمه، ج 1، ص 269، مکتبۃ ماجدیۃ)-