محترم مفتی صاحب / معزز علماء کرام
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
ادب کے ساتھ عرض ہے کہ میں ایک نہایت پریشان کن ازدواجی مسئلے میں مبتلا ہوں اور شریعت کی روشنی میں درست رہنمائی چاہتی ہوں۔ میرا نکاح تقریباً دو سال قبل ہوا۔ نکاح کے آغاز ہی سے شوہر کے ساتھ دل کی موافقت پیدا نہ ہو سکی اور شدید نفرت اور بے چینی رہی۔ میں نے پورے اخلاص کے ساتھ دو سال تک ہر ممکن کوشش کی، صبر کیا، دعا کی اور ازدواجی زندگی کو نبھانے کی کوشش کی، مگر حالات بہتر ہونے کے بجائے میرے لیے ذہنی طور پر ناقابلِ برداشت ہوتے چلے گئے۔
میری کیفیت اس حد تک بڑھ گئی کہ مجھے اپنی جان کے بارے میں خوف محسوس ہونے لگا۔ میں نے یہ بات اپنے والدین کے سامنے صاف صاف رکھ دی، مگر وہ مجھے اپنے گھر میں رہنے کی اجازت نہیں دے رہے اور اسی ازدواجی زندگی میں واپس جانے پر اصرار کر رہے ہیں، جب کہ اس صورت میں مجھے شدید ذہنی نقصان اور اپنی سلامتی کا اندیشہ ہے۔
میں نے نبی کریم ﷺ کے اس عمل کو سامنے رکھا ہے کہ جب حضرت ثابت بن قیسؓ کی اہلیہ نے صرف دل کی عدم موافقت کی بنا پر علیحدگی چاہی تو رسول اللہ ﷺ نے ان پر زبردستی نہیں فرمائی، بلکہ خلع کی اجازت عطا فرمائی۔
(صحیح بخاری)
کاش میں رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہوتی تو آج میرا مسئلہ بہترین طریقے سے حل ہو جاتا۔ مگر آپ حضرات، علماء کرام، انبیاء کے وارث ہیں، اور اسی امید پر میں آپ کی خدمت میں رجوع کر رہی ہوں۔ مجھے آپ سے عدل، حکمت اور شریعت کے مطابق رہنمائی کی بہت امید ہے۔
میرا مقصد کسی کی نافرمانی یا بے ادبی نہیں، بلکہ صرف یہ ہے کہ میرا معاملہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کے مطابق، انصاف اور رحم کے ساتھ حل ہو جائے۔
صورت مسؤلہ میں سائلہ کے لیے اگر اپنے شوہر کے ساتھ ان حالات میں مزید زندگی گزارنا مشکل ہو اور حدود اللہ کی پاسداری کرتے ہوئے شوہر کے ساتھ نباہ ممکن نہ ہو ،تو ایسی صورت میں سائلہ کے لیے اپنے شوہر سے طلاق یا خلع بالمال کے ذریعے علیحدگی حاصل کرنے کی گنجائش ہے ،اور اس کی وجہ سے وہ گناہ گار بھی نہ ہوگی ،جبکہ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اس معاملے میں سائلہ پر زبردستی نہ کریں اور شرعی حدود کا خیال رکھتے ہوئے اس کے ساتھ مکمل تعاون کریں ، تاکہ بعد میں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
کمافى الهندية: (وأما وصفه) فهو أنه محظور نظرا إلى الأصل ومباح نظرا إلى الحاجة كذا في الكافي.(ج:١،ص:٣٤٨)
وفى الشامى: وَأَمَّا الطَّلَاقُ فَإِنَّ الْأَصْلَ فِيهِ الْحَظْرُ، بِمَعْنَى أَنَّهُ مَحْظُورٌ إلَّا لِعَارِضٍ يُبِيحُهُ، وَهُوَ مَعْنَى قَوْلِهِمْ الْأَصْلُ فِيهِ الْحَظْرُ وَالْإِبَاحَةُ لِلْحَاجَةِ إلَى الْخَلَاصِ(ج:٣،ص:٢٢٨)
وفى الهداية: فالأحسن أن يطلق الرجل امرأته تطليقة واحدة في طهر لم يجامعها فيه ويتركها حتى تنقضي عدتها.(ج:١،ص:٢٢١)