السلام علیکم
کل تک مجھے مشروط طلاق کے بارے میں علم نہیں تھا۔ چند دن پہلے میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تم بدزبانی اور فحش زبان استعمال کرتی رہو گی تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا۔ یہ نہ تو دھمکی تھی اور نہ ہی طلاق۔ میرا یہ فیصلہ تھا کہ اگر وہ اسی طرح کرتی رہی تو میں اسے طلاق کا پیغام بھیجوں گا، اور بطور گواہ چند اور لوگوں کو بھی یہی پیغام بھیجوں گا۔ لیکن مجھے یہ یقین نہیں تھا کہ میں پہلی ہی مرتبہ ایسا کروں گا یا دو تین مرتبہ برداشت کرنے کے بعد کروں گا۔ براہِ کرم وضاحت کریں کہ آیا یہ مشروط طلاق ہے یا طلاق کا وعدہ۔ میں انتہائی الجھن میں ہوں۔
سائل نے سوال میں جو الفاظ ذکر کئے ہیں " اگر تم بدزبانی اور فحش زبان استعمال کر تی رہو گی میں تمہیں چھوڑ دوں گا " یہ الفاظ میں چونکہ بیوی کی فحش گوئی اور بد زبانی کی صورت میں مستقبل میں اسے طلاق کی دھمکی پر مبنی ہیں اس لئے ان الفاظ سے طلاق معلق (اور مشروط ) نہیں ہو تی ،چناچہ سائل کی بیوی اگر بد زبانی کرے تو اس پر طلاق واقع نہیں ہو گی ،تاہم سائل کا بغیر سوچے سمجھے طلاق دینا یا طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنا اسی طرح سائل کی بیوی کا بدزبانی اور فحش گوئی اختیا ر کرنا قطعاً مناسب نہیں جس سے اجتنا ب لازم ہے ۔
وفي عقود الدرية :صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال ،الخ(ج: 1 باب الطلاق ص : 38 ناشر دار المعرفۃ)