میرے شوہر باہر ہوتے ہیں، ہمارا ایک بیٹا ہے، دو سال شادی کو ہوئے ہیں، اب ایک دن میری ،میرے شوہر کے والدین سے لڑائی ہو گئی اور ان سے میں نے بد کلامی کر لی، اور میں ان کی خدمت نہیں کرتی، اس وجہ سے میری میرے شوہر کے ساتھ فون کال پر ہی کافی دفعہ لڑائی ہوئی، پر اب مجھے ایک دن فون پہ کہتے ہیں ، میں تو آپ کو پسند ہی نہیں کرتا، میں نے یہ شادی بھی اپنے والدین کی مرضی سے کی ہے، اور میں آپ کے ساتھ اب اور نہیں رہنا چاہ رہا، اور نا ہی اب میں آپ کو اور افورڈ کر سکتا ہوں۔ اور اسکے بعد کہا "میں آپ کا شوہر نہیں ہوں"، "میں نے آپ کو چھوڑ دیا ہے"،" آپ جہاں جانا چاہیں جا سکتی ہیں"۔ جب میں نے پوچھا کہ کیا پھر آپ اس نکاح کو باطل کہتے ہیں؟کیا آپ مجھے اپنی بیوی ماننے سے انکار کرتے ہیں؟ کیا میں آپ کی بیوی نہیں؟ تو پھر کوئی جواب نہیں دیا، پھر پندرہ دن بعد کہتے ہے کہ فون پہ ہی کہتے، تب بھی ہماری میری الگ گھر کے مطالبے پہ لڑائی چل رہی تھی، پھر کہتے ہیں، "میں نے آپ کو چھوڑ دیا ہے "" آپ جہاں جانا چاہیں جا سکتی ہیں"، میں نے ادھر ہی رہنا، میں کہیں نہیں جاتا۔ "جاؤ میں نے آپ کو چھوڑ دیا ہے"، اب یہ انہوں نے اس طرح کے الفاظ بولے ہیں ،مگر ایک دفعہ نہیں، مختلف اوقات میں اور مختلف دنوں میں۔ اب مجھے سمجھ نہیں آ رہی، کیا مجھے طلاق ہوگئی ہے؟کیا اب میں ان کے گھر نہیں رہ سکتی؟اس بارے میں میری راہ نمائی کریں۔
سائلہ کا بیان اگر حقیقت پر مبنی ہو اور اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی کا سہارا نہ لیا گیا ہو بایں طور پر کہ واقعتہً سائلہ کے شوہر نے مختلف اوقات میں متعدد بار فون پر یہ الفاظ کہے ہوں "میں نے آپ کو چھوڑ دیا ہے" چونکہ اردو زبان میں یہ الفاظ طلاق صریح کے لیے استعمال ہوتے ہیں، لہٰذا اس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ دونوں باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فورا ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ،ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے، جب کہ عورت ایام عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما فی التنزیل العزیز: فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره فإن طلقها فلا جناح عليهما أن يتراجعا إن ظنا أن يقيما حدود الله وتلك حدود الله يبينها لقوم يعلمون [البقرة: 230]
وفی حاشية ابن عابدين :’’فإن سرحتك كناية، لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح، فإذا قال: "رهاكردم" أي سرحتك، يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضاً، و ما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق، و قد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت الخ( باب الکنایات ، ج:3، ص:299، مط: دار الفكر-بيروت)