میں اپنے شوہر کی بدزبانی کو لے کر ہمیشہ ان سے الجھتی رہی کہ خدایا! گالی گلوچ سے اجتناب کریں، رشتہ داروں، راستے میں سفر کرتے ہوئے لوگوں، اولاد، بیوی، والدین، کسی کو بھی نہیں چھوڑتے۔ اب میں ان کی زبان سے اتنی تنگ ہوں کہ ان کے پاس بھی نہیں جانا چاہتی۔ وہ حافظِ قرآن ہیں۔ آخرت بھی خراب، میری دنیا بھی، لیکن اب صبر کی بجائے کوئی قدم اٹھانا چاہتی ہوں، تاکہ گناہگار نہ بنوں۔ بچے بھی ان سے دور رہنے لگے ہیں غصے اور گالیوں سے بچنے کے لیے، جس کا ذمہ دار مجھے ٹھہراتے ہیں۔ میں ایک نرس ہوں۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃََ درست اور حقیقت پر مبنی ہو اس میں مبالغہ آرائی سے کام نہ لیا گیا ہو تو ان کے شوہر کا مذکور رویہ انتہائی نازیبا اور شرعاً واجب الترک ہے، اس پر لازم ہے کہ اپنے مذکور رویے جس کی وجہ سے اولاد اور رشتہ دار بیزاری کی حد تک پہنچے ہوئے ہیں، اس کو ترک کرے تاکہ دنیا اور آخرت کی رسوائیوں سے بچا سکے، جبکہ اگر سائلہ یا ان کی اولاد میں اگر شرعی اعتبار سے کوئی کمی کوتاہی ہو تو انہیں چاہیے کہ ایسی کوتاہیوں سے باز آئیں اور مزید یہ کہ خاندان کے بڑوں کے ذریعے اصلاح کی کوشش کرے۔ لیکن اگر اس سب کے باوجود شوہر کے رویے میں تبدیلی نہ آئے جس کی وجہ سے آپس میں نباہ کی صورت نہ بن سکے بلکہ مزید تلخیاں پیدا ہو کر اولاد اور سائلہ کی زندگی پر اس کے بداثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہو تو سائلہ اس سے طلاق یا خلع کا مطالبہ بھی کر سکتی ہے اور اس کی وجہ سے وہ گناہگار بھی نہ ہوگی۔
كما في سنن الترمذى:عن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، عن أبيه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «قتال المسلم أخاه كفر، وسبابه فسوق» وفي الباب عن سعد، وعبد الله بن مغفل،: «حديث ابن مسعود حديث حسن صحيح، وقد روي عن عبد الله بن مسعود من غير وجه»(باب ما جاء سباب المؤمن فسوق باب ما جاء سباب المؤمن فسوق،ج:٢،ص:٨٩٤،ط:البشرى)
وفيه ايضاََ:عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «سباب» المسلم فسوق وقتاله كفر.هذا حديث حسن صحيح. »(باب ما جاء سباب المؤمن فسوق باب ما جاء سباب المؤمن فسوق،ج:٢،ص:٨٩٤،ط:البشرى)
وفي مشكاة المصابيح:وعن عبد الله بن عمرو أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أربع من كن فيه كان منافقا خالصا ومن كانت فيه خصلة منهن كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها إذا اؤتمن خان وإذا حدث كذب وإذا عاهد غدر وإذا خاصم فجر»(باب الكبائر وعلامات النفاق،الفصل الاول،ج:١،ص:١٧،ط:قديمى كتب خانه)
وفي تحفة الاحوذى:(وسبابه فسوق) السب في اللغة الشتم والتكلم في عرض الإنسان بما يعيبه والفسق في اللغة الخروج والمراد به في الشرع الخروج عن الطاعة وأما معنى الحديث فسب المسلم بغير حق حرام بإجماع الأمة وفاعله فاسق كما أخبر به النبي صلى الله عليه وسلم قاله النووي(باب ما جاء سباب المؤمن فسوق باب ما جاء سباب المؤمن فسوق،ج:٧،ص:٣٢٤،ط:دار الكتب العلمية)
و في مرقاة المفاتيح:(فسوق) ؛ لأن شتمه بغير حق حرام. قال الأكمل: الفسوق لغة الخروج زنة ومعنى، وشرعا هو الخروج عن الطاعة(باب حفظ اللسان والغيبة والشتم،ج:٨،ص:٥٦١،ط:المكتبة الحقانية)
و فی الھندیۃ: إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية اھ (فصل في شرائط الخلع وحكمه وما يتعلق به،ج١،ص٤٨٨،ط:ماجدیہ)۔