اگر عورت پچھلے ایک سال سے شوہر سے خُلع کا مطالبہ کر رہی ہو، اور شوہر کو ماں کے کہنے پر بیٹی کہہ دے کہ
“آپ کی بیوی آپ سے ہر صورت آزاد ہونا چاہتی ہے، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔”
پھر شوہر آ کر بیوی سے کہہ دے:
“کہ جاؤ ماں کے گھر، تیرا راستہ آزاد ہے، بے غیرت ہو کر یہاں بیٹھی ہو اور پورے گھر میں نحوست پھیلا دی ہے۔”
ان الفاظ کے بعد اگر شوہر یہ کہے کہ میری طلاق کی نیت نہیں تھی، اور شوہر اپنی زبان سے کہی ہوئی بات سے ہر بار مکر جانے والا بھی ہو،
تو چونکہ طلاق یا خلع کا ذکر سن کر شوہر نے یہ باتیں کہی ہیں،
تو عورت کے لیے کیا حکم ہے؟
کیا خلع یا طلاق کے تذکرے کے ساتھ کہے گئے ان کنایہ الفاظ سے، بغیر نیت کے بھی طلاقِ بائن واقع ہوجاتی ہے یا نہیں؟
صورت مسئولہ میں اگر شوہر اس بات پر حلف اٹھانے کے لئے تیار ہو کہ اس جملے"جاؤ ماں کے گھر ،تیرا راستہ آزاد ہے " سے ان کی نیت طلاق دینے کی نہیں تھی تو ( اگرچہ طلاق اور آزادی لینے کا پس منظر اور مذاکرہ کیوں نہ ہو )تب بھی ان کے اس جملے سے اس کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوئی ، لہذا وہ دونوں اس کے بعد میاں بیوی کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں ۔
کما فی الدر المختار : الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب،(ج:3، ص:297، مط:ایچ ایم سعید )
وفی الھندیۃ : رجل قال لامرأته أربعة طرق عليك مفتوحة لا يقع بهذا شيء وإن نوى إلا إذا قال خذي أي طريق شئت وقال نويت الطلاق ولو قال ما نويت صدق ولو قال لها اذهبي أي طريق شئت لا يقع بدون النية وإن كان في حال مذاكرة الطلاق (ج:1 ص:376)