السلام علیکم
میرا سوال یہ ہے کہ ہماری دال کی فیکٹری ہے اس میں بعض اوقات گاڑیاں دال لوڈ کرنے آتی ہے اور ان گاڑیوں میں بعض فیکٹریوں کی دال لوڈ ہوتی ہے اور ہمارے ساتھ ایک گودام ہیں اس میں بھی باہر سے دالیں آتی ہیں تو ہم ان کے ملازموں یا گاڑی کے ڈرائیوروں کو کہ کر دوسری ملز کا سمپلز دیکھتے ہیں جس کی قیمت پاکستانی 30یا40روپے ہوگی دیکھنے کی وجہ یہ ہیں کہ ہم اس کو دیکھ کر اپنی دال کی کوالٹی بہتر بنائیں کیا یہ ہمارے لیے دیکھنا جائز ہے
واضح ہو کہ اصل مالک کی جانب سے ملازم یا ڈرائیور کو دی جانے والی اشیاء ملازم کے پاس امانت کے حکم میں ہے جس کے اندر اصل مالک کی اجازت کے بغیر تصرف کرنا یا کسی اور کو تصرف کی اجازت دینا شرعا جائز نہیں، لہذا اگر مذکور مال کے اصل مالکان کی جانب سے ملازمین کے لیے دیگر افراد کو سیمپل دکھانے اور دینے کی اجازت ہو، تو ان کا یہ سیمپل دکھانا اور سائل والوں کا اسے دیکھنا ہر دو امور شرعاً جائز و درست ہوں گے، وگرنہ ایسا کرنے سے احتراز لازم ہے ۔
کما فی مجلۃ الاحکام العدلیۃ: والمال الذي في يد الرسول من جهة الرسالة أيضا في حكم الوديعة.اہ( الكتاب الحادي عشر:في الوكالة، الباب الثالث: في بيان أحكام الوكالة، ج: ١،ص: ٢٨٥، مط: نور محمد )
وفي الأشباه والنظائر: لا يجوز التصرف في مال غيره بغير إذنه، اه(المسائل الاستحسانية، ص: ٢٤٣)
وفي الدر المختار: (وكون المودع مكلفا شرط لوجوب الحفظ عليه)الى قوله(وهي أمانة) هذا حكمها مع وجوب الحفظ والأداء عند الطلب واستحباب قبولها (فلا تضمن بالهلاك) إلا إذا كانت الوديعة بأجر أشباه معزيا للزيلعي (مطلقا) سواء أمكن التحرز أم لا، اہ(کتاب الابداع،ج: ٥،ص: ٦٦٤، مط: سعيد)