ایک لڑکی (۔۔۔) جس کا نکاح کچھ عرصہ پہلے ایک لڑکے (۔۔ ) کے ساتھ ہوا تھا لیکن رخصتی نہیں ہوئی تھی ، کچھ مہینوں کے بعد لڑکی نےاس نکاح کو جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے شوہر سے خلع کا مطالبہ کیا، اور یہ معاملہ عدالت میں لے گئی ، عدالت نے لڑکے کو تین مرتبہ نوٹس بھیج دیا لیکن لڑکا عدالت حاضر نہ ہوا، اس بناء پر عدالت نے خلع کا فیصلہ جاری کردیا ۔ اس کے بعد معاملہ یونین کونسل میں گیا اور یونین بار بار لڑکے کو طلب کررہی ہے مگر لڑکا حاضر نہیں ہو تا ۔ لڑکی کے خاندان والے اس پر بضد ہیں کہ جب تک لڑکا طلاق نہ دے تو ہم کچھ نہیں کرسکتے (یعنی لڑکی کی دوبارہ شادی وغیرہ) ، لڑکا کہ رہا ہے کہ میں انتقام لونگا اور ساری زندگی طلاق نہیں دونگا ۔
اب شریعت کی روشنی میں لڑکی کو کیا کرنا چاہئے ، لڑکی کے خاندان والے کہ رہے ہیں کہ اگر کو ئی مستند فتوی آجائے تو ہم اس کے روشنی میں ہی دیکھیں گے ۔ آپ مفتیان کرام سے گزارش ہے کہ اس معاملے میں فتوی صادر فرماکر ممنون فرمائیں ۔
مستفتی :۔۔۔ لاہور
سائل نے عدالتی خلع کے کاغذات خلع لینے کی وجوہات اور مکمل تفصیل بیان نہیں کی،تاکہ اسے دیکھ کر حکم شرعی بیان کیا جاتا ،تاہم اصولی حکم یہ ہے کہ خلع بھی دیگر عقود کی طرح ایک عقد ہے جس کی درستگی کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب وقبول شرط ہے جو عموماً یکطرفہ عدالتی خلع میں مفقود ہوتا ہے ، لہٰذا سوال میں مذکور عدالتی خلع پر اگر شوہر یا اس کے وکیل کی جانب سے رضامندی کا اظہار نہ کیا گیا ہو اور اس میں تنسیخ نکاح کے اسباب میں سے کوئی سبب بھی موجود نہ ہو تو فقط اس ڈگری کے جاری کرنے سے شرعاًیہ نکاح ختم نہیں ہوا اور نہ ہی اس کی بنیاد پر لڑکی دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے ،اس سلسلہ میں بہتر یہ ہے کہ لڑکی والے یہ خلع کی ڈگری کسی قریبی مستند دارالافتاء میں دیکھا کر ان سے مشورہ کر کے اسی کے مطابق عمل کریں۔
کمافی التنزیل: فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَا فِيمَا ٱفۡتَدَتۡ بِهِ (سورۃ البقرۃ،ایت:229)
وفی احکام القرآن للجصاص:قال أصحابنا: إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين، فقال أصحابنا: ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين الخ (ج:2،ص:239،ناشر:بیروت)
وفی التاتارخانیۃ:الخلع عقد یفتقر الی الایجاب والقبول یثبت الفرقۃ ویستحق علیھاالعوض اھ(ج:3،ص:453،ناشر:ادارۃالقرآن)