اگر شوہر دو،تین بار بول دے کہ میں تمہیں طلاق دے دونگا میں نہیں رکھونگا ،تو کیا ان کا باربار طلاق کا بولنے سے طلاق ہوگیا ؟
اگر شوہر نے بیوی کو فقط مذکور الفاظ "میں تمہیں طلاق دے دونگا"کہے ہوں تو مذکور الفاظ چونکہ انشاء طلاق کیلئے نہیں بلکہ مستقبل میں طلاق دینے کی دھمکی پر مبنی ہیں ،اس لئےان الفاظ کے دو ،تین بار کہنے کے باوجود بھی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی بلکہ دونوں میاں بیوی کا نکاح بدستور باقی ہے،تاہم شوہر کے لئے باربار بیوی کو طلاق کی دھمکی دینا مناسب نہیں جس سے اسے اجتناب کرنا چاہئے۔
كما فى الدرالمختار:رفْع قيد النكاح فِی الحال) بِالبائنِ (أو المَآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق(ج:٣،ص:٢٢٧)
وفي البحر الرائق:ركنه اللفظ المخصوص الدال على رفع القيد.(ج:٣،ص:٢٥٢)
وفى الهندية:لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا.(ج:١،ص:٣٨٤)