طلاق

"اگر تم جان بوجھ کر میری طبیعت نہیں پوچھ رہی تو تم پر تین طلاقیں"کہنے کے بعد بیوی کا لاعلمی میں طبیعت نہ پوچھنے کا حکم

فتوی نمبر :
91261
| تاریخ :
2026-01-22
معاملات / احکام طلاق / طلاق

"اگر تم جان بوجھ کر میری طبیعت نہیں پوچھ رہی تو تم پر تین طلاقیں"کہنے کے بعد بیوی کا لاعلمی میں طبیعت نہ پوچھنے کا حکم

​میرا موقف:
میں نے یہ 3 طلاق کی بات غلط فہمی میں کہی تھی، میری نیت میں بیوی کو چھوڑنا بالکل نہیں تھا۔ میری بیوی بھی غلط فہمی کی وجہ سے نادان تھی (یعنی وہ حقیقت نہیں سمجھ پائی تھی)۔
​سوال:
کیا اس صورتحال میں (غلط فہمی کی بنا پر کہی گئی) یہ 3 طلاق والی شرط واقع ہوگئی ہے یا نہیں؟ براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔
​سائل: وحید
نوٹ : سائل کے بقول اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی، لیکن وہ دوائی لینے ڈاکٹر کے پاس نہیں گیا، جس کی وجہ سے بیوی یہ سمجھی کے طبیعت ٹھیک ہے، اور میں جھوٹ بول رہا ہوں، پھر صبح کام پر جانے کے بعد بیوی نے فون کیا، اور شام کو فون کیا لیکن اسنے میری طبیعت نہیں پوچھی، اور میں نے غصے میں بولا "اگر تم جان بوجھ کر میری طبیعت نہیں پوچھ رہی تو تم پر تین طلاقیں، پھر میں نے گھر آکر اس سے پوچھا، تو اس نے کہا کے مجھے نہیں پتا تھا کہ تمھاری طبیعت واقعۃ خراب ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسؤلہ میں سائل کا اپنی بیوی کو یہ جملہ " اگر تم جان بوجھ کر میری طبیعت نہیں پوچھ رہی تو تم پر تین طلاقیں" کہنے کی وجہ سے تین طلاق کا واقع ہونا یہ نا ہونا اس بات پر موقوف ہے کہ بیوی نے طبیعت کی خرابی کا علم ہونے کے باوجود جان بوجھ کر طبیعت نہیں پوچھی یا طبیعت کی خرابی سے لاعلمی کی وجہ سے نہیں پوچھی، لہذا اگر بیوی کو واقعۃ سائل کی طبیعت کی خرابی کا علم نہیں تھاجس کی وجہ سے اس نے طبیعت نہیں پوچھی، جان بوجھ کر اس نے قصدا سائل کی طبیعت کے متعلق پوچھنے کو نظر انداز نہ کیا ہو، (جیسا کہ سوال میں مذکور ہے) تو ایسی صورت میں سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، تاہم اس طرح کی معمولی باتوں پر بیوی کو طلاق دینا قطعا مناسب طرز عمل نہیں، لہذا سائل کو آئندہ اس طرح معمولی باتوں پر طلاق کے الفاظ استعمال کرنے سے اجتناب کرنا چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الدرا لمختار: (وما لا يعلم) وجوده (إلا منها صدقت في حق نفسها خاصة) استحسانا بلا يمين، نهر بحثا،ومراهقة كبالغة واحتلام كحيض في الاصح (كقوله إن حضت فأنت طالق وفلانة، أو ‌إن ‌كنت تحبين ‌عذاب ‌الله فأنت كذا أو عبده حر، فلو قالت حضت) والحيض قائم، فإن انقطع لم يقبل قولها، زيلعي وحدادي (أو أحب طلقت هي فقط) إن كذبها الزوج، فإن صدقها أو علم وجود الحيض منها طلقتا جميعا، حدادي
وفی رد المحتار تحت قولہ استحسانا: (قوله استحسانا) والقياس أن يكون القول قوله لأنها تدعي شرط الحنث على الزوج ووقوع الطلاق وهو منكر فيكون القول قوله ولا تصدق إلا بحجة كغيره من الشروط.
وجه الاستحسان أن هذا الأمر لا يعرف إلا من قبلها؛ وقد ترتب عليه حكم شرعي فيجب عليها أن تخبر كي لا تقع في الحرام، إذ الاجتناب عنه واجب عليهما شرعا فيجب طريقه وهو الإخبار فتعينت له، فيجب قبول قولها لتخرج عن عهدة الواجب زيلعي (قوله نهر بحثا) أصل البحث لأخيه صاحب البحر، حيث قال: وظاهره أنه لا يمين عليها، ويدل عليه قولهم إن الطلاق المعلق بإخبارها وقد وجد، ولا فائدة في التحليف لأنه وقع بقولها والتحليف لرجاء النكول، وهي لو أخبرت ثم قالت كنت كاذبة لا يرتفع الطلاق لتناقضها اهـ لكن في حواشي مسكين: نقل الحموي عن رمز المقدسي أن عليها اليمين بالإجماع، إذ ليس هذا من المواضع المستثناة من قولهم كل من قبل قوله فعليه اليمين. اهـ.
قلت: ولا يخفى ما فيه لما علمت من عدم الفائدة في التحليف، ومن وجه الاستحسان، وعدم ذكرها في المستثنيات لا يدل على عدم كونها منها، فكم من أصل استثني منه أشياء مع بقاء غيرها لكون ذلك بحسب ما خطر في ذهن المستثني ولا سيما مع ظهور الوجه، نعم هذا في القضاء ظاهر؟ وأما في الديانة فينبغي التفرقة بين الحيض والمحبة لأن تعلق الطلاق بإخبارها قضاء وديانة إنما هو في المحبة، أما في الحيض فلا تطلق ديانة إلا إذا كانت صادقة كما تعرفه قريبا فافهم (قوله ومراهقة كبالغة) وأما حكم الصغيرة التي لا يحيض مثلها والآيسة؛ فقال في النهر لم أره، وينبغي أن يقبل من الآيسة لا الصغيرة (قوله واحتلام كحيض في الأصح) قال في النهر: واختلف فيما لو قال لعبده إن احتلمت فأنت حر فقال احتلمت، فروى هشام أنه لا يصدق والأصح أنه يصدق لأن الاحتلام لا يعرفه غيره كالحيض كذا في المحيط (قوله كقوله إن حضت إلخ) اعلم أن التعليق بالمحبة كالتعليق بالحيض إلا في شيئين
أحدهما أن التعليق بالمحبة يقتصر على المجلس لكونه تخييرا، حتى لو قامت وقالت أحبك لا تطلق، والتعليق بالحيض لا يبطل بالقيام كسائر التعليقات.
وفي كافي الحاكم الشهيد: ولو قال أنت طالق إن كنت تحبين كذا وكذا لشيء يعرف أنها تحبه أو لا تحبه كالموت والعذاب فقالت أنا أحبه فالقول قولها ما دامت في مجلسها، وكذا إن كنت تبغضين كذا لشيء يعلم أنها تحبه كالحياة والغنى فقالت أنا أبغضه فهي طالق، وإن قال أنت طالق ثلاثا إن كنت تحبين كذا فقالت لست أحبه وهي كاذبة لم يقع، وكذا لو قال أنت طالق ثلاثا إن كنت أنا أحب ذلك ثم قال لست أحبه وهو كاذب فهي امرأته ويسعه فيما بينه وبين الله تعالى أن يطأها وكذلك اليمين على البغض وكذلك لو قال: إن كنت تحبين الطلاق بقلبك أو تريدينه أو تشتهينه بقلبك دون لسانك فأنت طالق ثلاثا فقالت لا أشاء ولا أحب ولا أهوى ولا أريد ولا أشتهي فهي امرأته، ولا تصدق بعد ذلك على قولها خلافه، وإن كانت في مجلسها ذلك أو سكتت فلم تقل شيئا حتى يقوم فهي امرأته، وإن كان في قلبها خلاف ما أظهرت فإنه يسعها أن تقيم معه فيما بينها وبين الله تعالى في قول أبي حنيفة وأبي يوسف وقال محمد: لا يسعها المقام معه إن كان ما في قلبها خلاف ما أظهرت على لسانها اهـ. ( کتاب الطلاق، باب التعلیق، مطلب فی اختلاف الزوجین فی وجود الشرط، ج: 3، ص: 358، ط: سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شیراز نور غنی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91261کی تصدیق کریں
0     140
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 6
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • گھر والوں کی دباؤ میں آکر طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
Related Topics متعلقه موضوعات