کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں ، کہ میں مسماۃ ........کا نکاح آج سے تقریباً پندرہ ،سولہ سال قبل مسمی ...... سے ہو گیا تھا، ہم دونوں میاں بیوی کے درمیان طلاق کے الفاظ میں اختلاف ہے، بیوی مسماۃ ..... کا حلفیہ بیان : میں مسماۃ .....اللہ کو حاضر و ناظر جان کر حلفیہ بیان دے رہی ہوں، کہ میں جو کچھ کہوں گی سچ کہوں گی، اگر میں نے بیان میں جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لیا تو اس کا عذاب اور وبال مجھ پر ہوگا ،ابھی گزشتہ ہفتہ میرے ماموں کے گھر پر دعوت تھی، اس سے پہلے ہم میاں بیوی کے درمیان کسی بات پر لڑائی ہوئی، تو میرے شوہر نے مجھے کہا کہ اگر تم اس گھر سے نکل کر ماموں کے گھر گئی اور کھانا کھایا تو تم مجھ پر" طلاق ہوگی، طلاق ہوگی ،طلاق ہوگی" ،"کہ تہ دہ کورہ اووتے ،ماما کرہ لاڑے او روٹئ دے اوخوڑہ نو پہ ما طلاقہ ئے طلاقہ ئے طلاقہ ئے " اس کے بعد سب گھر سے نکل کر ماموں کے گھر گئے اور کھانا کھاتے بغیر واپس گھر آگئے ،پھر ماموں کے کہنے پر شوہر نے اجازت دی ،تو سب دوبارہ ماموں کے گھر گئے اور کھانا بھی کھایا،
شوہر ..... کا حلفیہ بیان : میں مسمی......اللہ کو حاضر و ناظر جان کر یہ حلفیہ بیان دے رہا ہوں کہ میں جو کچھ کہوں گا، سچ کہوں گا، اگر میں نے بیان میں جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لیا تو اس کا عذاب اور وبال مجھ پر ہوگا، میں نے لڑائی کے بعد اپنی بیوی کو کہا تھا کہ اگر تم نے مامو ں کے گھر کھانا کھایا ،تو تم مجھ پر طلاق ہوگی،"کہ تا دہ ماما کرہ روٹئ اوخوڑہ نو پہ ما بہ طلاقہ ئے " اور یہ جملہ میں نے صرف ایک مرتبہ بولا تھا، اس کے بعد ان کے مامو ں کے کہنے پر میں نے اجازت دی تھی، اور اس کے بعد اس نے جا کر وہاں کھانا بھی کھایا تھا، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں، اور اب ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟
سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق مسماۃ ..... اپنے شوہر کے خلاف مذکور الفاظ "اگر تم اس گھر سے نکل کر ماموں کے گھر گئی اور کھانا کھایا تو تم مجھ پر طلاق ہوگی ،تم مجھ پر طلاق ہوگی ،تم مجھ پر طلاق ہوگی " کہنے کا دعوی کر رہی ہے، جبکہ شوہر مسمی .....صرف ایک دفعہ معلق طلاق دینے کا دعوی کر کے بیوی کی بات کا انکار کر رہا ہے، اور چونکہ شرط پائی جانے کی وجہ سے ایک طلاق تو بالاتفاق واقع ہو گئی ہے، البتہ بقیہ دو طلاقوں میں اختلاف پایا جا رہا ہے، جب ایسی صورتحال ہو جائے کہ عورت تین طلاقوں کا دعوی کر رہی ہو ،لیکن اس کے پاس اپنے دعوی پر شرعی گواہان موجود نہ ہوں تو المراۃ کا لقاضی کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے عورت کو چاہیے کہ اپنے آپ کو مطلقہ ثلاثہ سمجھے، اور شوہر کو اپنے اوپر قدرت نہ دے، لیکن اگر یہ معاملہ قاضی کی عدالت پہنچ جائے اور بیوی کے پاس شرعی گواہان نہ ہونے کی صورت میں شوہر کی قسم پر اعتماد کرتے ہوئے قاضی عورت کو شوہر کے ساتھ روانہ کر دے تو ایسی صورت میں عورت اگرچہ گنہگار نہ ہوگی، لیکن جب اس کو اپنے کانوں سے تین طلاق سننا دیا ہو تو ایسی صورت میں اس کو چاہئیے کہ حتی الامکان شوہر کو اپنے اوپر قدرت نہ دے، بلکہ شوہر سے طلاق بالمال یا خلع کے ذریعہ ہر ممکن خلاصی کی کوشش کرتی رہے،
کما فی الدر: (فإن اختلفا في وجود الشرط) أي ثبوته ليعم العدمي (فالقول له مع اليمين) لإنكاره الطلاق، ومفاده أنه لو علق طلاقها بعدم وصول نفقتها أياما فادعى الوصول وأنكرت أن القول له وبه جزم في القنية،ج: 3،ص:
و فیہ ایضاً: (وزوال الملك) من نكاح أو يمين (لا يبطل اليمين) فلو أبانها أو باعه ثم نكحها أو اشتراه فوجد الشرط طلقت وعتق لبقاء التعليق ببقاء محله(وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا،ص: 355۔)
و فی ردالمحتار: وعلمت أن المرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا علمت منه ما ظاهره خلاف مدعاه. اهـ.،ج: 3،ص: 305۔)
و فی شرح الوقایۃ: قوله صلى الله عليه وسلم: «البينة على المدعي، واليمين على من أنكر»، فكل شيء يثبت بالبينة فعند العجز عنها يتوجه اليمين على المنكر،ج: 4،ص: 27۔)