شوہر نے اپنے سسر کو فون پر کہا کہ۔ میں آپ کی بیٹی کو طلاق دیتا ہوں یہ اس نے تین دفعہ کہا کیا اس صورت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے رہنمائی فرمائیے گا فتویٰ درکار ہے
واضح ہو کہ بیوی کے سامنے طلاق دینا کوئی ضروری نہیں ہے ، بلکہ بیوی کی عدمِ موجودگی میں بھی طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں داماد کا سسر کو فون پر مذکور الفاظ " میں آپ کی بیٹی کو طلاق دیتا ہوں " تین مرتبہ کہنے سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہوسکتا ، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیردوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا , جبکہ لڑکی عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
کما وفي الفتاوى الهندية: ولو قال فلانة طالق ولم ينسبها أو أنسبها إلى أبيها أو أمها أو أختها أو ولدها، وامرأته بذلك الاسم والنسب فقال عنيت أخرى أجنبية لا يصدق في القضاء ولو قال هذه المرأة التي عنيت امرأتي وصدقته في ذلك وقع الطلاق عليها ولم يصدق في إبطال الطلاق عن المعروفة إلا أن يشهد الشهود على نكاحها قبل أن يتكلم بالطلاق أو على إقرارهما به قبل ذلك أو تصدقه المرأة المعروفة كذا في فتح القدير. (كتاب الطلاق,الباب الثاني في إيقاع الطلاق,الفصل الأول في الطلاق الصريح,1/ 358ط: ماجدیہ)
و فی الہندیة :"وإن كان الطلاق ثلاثًا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجًا غيره نكاحًا صحيحًا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية". (3/473، ط: ماجدية)