شوہر نے اپنی بیوی کو پہلی بار طلاق دی اور اسی رات رجوع کر لیا، اس کے بعد کچھ عرصہ گزرا پھر سے طلاق دی اور اس بار رجوع نہ ہوا اور مدت گزر گئی پھر واپس صلح ہوئی اور نکاح پڑھوا کر پھر سے ساتھ رہنا شروع کر دیا، اب اس کے بعد پھر سے اختلاف ہوا لیکن اس بار بیوی نے کورٹ میں خلع مانگی جو کہ منظور ہوئی اب اس فیصلہ کےسوا مہینہ بعد بیوی واپسی چاہ رہی ہے کیا ان کے پاس گنجائش ہے ساتھ رہنے کی؟ مرد نے دو بار طلاق دی جس میں پہلی بار رجوع ہوا دوسری بار میں وقت مقرر گزر جانے کے بعد صلح ہوئی اور نکاح ہوا برائے کرم رہنمائی فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور خلع کی ڈگری اگر یکطرفہ محض عورت کے دعوی کی بنیاد پر جاری کی گئی ہو، سائل یا اس کے وکیل نے اس پر رضامندی کے ساتھ سائن نہ کیے ہو ں تو اس سے شرعاً سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،بلکہ دونوں کا نکاح برقرار ہے اور وہ حسبِ سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم سائل چونکہ دو طلاقیں دے چکا ہے اور آئندہ اسے فقط ایک طلاق کا اختیار ہے اس لیے سائل کو طلاق کے معاملے میں انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہیے۔.
كما في الفتاوى الهندية: (الفصل الاول في الطلاق الصريح): وهو كأنت طالق ومطلقة وطلقتك وتقع واحدة رجعية وإن نوىٰ الأكثر أو الإبانة أو لم ينو شيئاً كذا في الكنز.(ج:1،ص:354،مط: ماجدية).
وفي بدائع الصنائع: وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة ولا يستحق العوض بدون القبول..الخ.(ج:3،ص:145،مط: سعيد).