گزارش ہے کہ!
ایک سنی مسلمان میاں بیوی جو کہ عرصہ ۲۲ سال سے شادی شدہ ہیں اور یورپ کے ایک ملک میں رہا یٗش پزیر ہیں۔ ان کے بچے بھی جوان ہیں۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد سے ہی خاوند نے غیرعورتوں سے تعلقات رکھنے شروع کر دیے۔ اس وجہ سے گھر میں اکثرجھگڑا رہنے لگا۔ جوکہ روز کا معمول بن گیا۔ خاوند کے رشتے داروں کو بھی اس بات کا پتہ ہے پر وہ کچھ نہیں کر سکتے۔
چند روز پہلے پھر اسی بات پر جھگڑ ا ہوا جو کہ کافی بڑھ گیا۔ اسی دوران غصہ میں خاوند نے اپنی بیوی سے انگریزی میں کہا:
"I had enough of you, go where ever you want to go"
ترجمہ: (میری تم سے بس ہوگئ ہے تم جہاں جانا چاہتی ہو چلی جاوٗ)
اسی جھگڑےے کے دوران یہ الفاظ دو مرتبہ کہے گےٗ۔
صورت مسوٗلہ میں آپ سے شریعت کی رو سے رہنماییٗ درکار ہے کہ:
۱۔ اب ان کی ازدواجی حیثیت کیا ہے؟
۲۔ کیا کوئی طلاق کی صورت تو نہیں واقع ہوئی ؟
۳۔ اگر کوئی ایسی بات ہے تو آگے کا لائحہ عمل کیا ہو گا۔؟
ساری ازدواجی زندگی میں بیوی نے کبھی طلاق کا مطالبہ نہیں کیا۔
براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں ۔ شکریہ
صورت مسؤلہ کا حکم شوہر کی نیت پر موقوف ہے ،اگر اس نے مذکور الفاظ ادا کرتے وقت طلاق کی نیت کی ہو تو ایک طلاق بائن واقع ہوگی جس کے بعد دوبارہ میاں بیوی کی حیثیت سے اکھٹے ساتھ رہنے کے لیے نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں تجدید نکاح لازم ہوگا ،اور اگر شوہر کی ان الفاظ کو ادا کرتے وقت طلاق کی نیت نہ ہو تو اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،وہ بدستور میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کرسکتے ہیں ،تاہم شوہر کو چاہیے کہ وہ آئندہ اس قسم کے الفاظ بولنے سے احتراز کرے ۔
کما فی الدر : (كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) - الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب، فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة، والكنايات ثلاث: ما يحتمل الرد، أو ما يصلح للسب، أو لا ولا،(فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا۔)
و فیہ ایضاً : (وفي الغضب) توقف (الاولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف(الاول فقط) ويقع بالاخيرين وإن لم ينو،لان مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية لانها أقوى لكونها ظاهرة، والنية باطنة،ج: 3،ص: 214۔)
و فیہ ایضاً: (وتقع رجعية بقوله اعتدي واستبرئي رحمك وأنت واحدة) وإن نوى أكثر، ولا عبرة بإعراب واحدة في الأصح (و) يقع (بباقيها) أي باقي ألفاظ الكنايات المذكورة،الی قولہ (البائن إن نواها أو الثنتين) لما تقرر أن الطلاق مصدر،ص: 303۔)