محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
میرا ایک شرعی مسئلہ ہے، براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
ایک میاں بیوی آسٹریلیا میں مقیم تھے۔ شوہر دل سے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دینا چاہتا تھا، لیکن اس کے گھر والوں کی طرف سے شدید دباؤ تھا (صرف خاندانی دباؤ، جان یا جسمانی نقصان کی کوئی دھمکی نہیں تھی)۔
بعد میں شوہر پاکستان گیا۔ وہاں گھر والوں نے ایک طلاق نامہ تیار کیا جس میں تین طلاقیں لکھی ہوئی تھیں اور شوہر سے اس پر دستخط کروا لیے۔ شوہر نے
زبان سے طلاق کے الفاظ ادا نہیں کیے،
طلاق دینے کی نیت بھی دل سے نہیں تھی،
صرف خاندانی دباؤ کی وجہ سے دستخط کیے،
اس کے بعد وہ طلاق نامہ بیوی کے گھر بھیج دیا گیا،
اب شوہر کا کہنا ہے کہ:
پاکستان میں تو طلاق ہو گئی، لیکن میں آسٹریلیا میں رجوع کر کے بیوی کو رکھنا چاہتا ہوں۔
❓ سوالات
کیا صرف خاندانی دباؤ میں دستخط کرنے سے (بغیر زبان سے طلاق کہے) طلاق واقع ہو جاتی ہے؟
اگر طلاق نامے میں ایک ساتھ تین طلاقیں لکھی ہوں تو کیا وہ تینوں واقع ہو جاتی ہیں؟
ایسی صورت میں کیا عدت کے اندر رجوع ممکن ہے یا نہیں؟
کیا ملک بدلنے (پاکستان / آسٹریلیا) سے طلاق یا رجوع کے حکم میں کوئی فرق پڑتا ہے؟
اگر طلاق واقع ہو چکی ہو تو کیا شوہر کے لیے رجوع کرنا شرعاً جائز ہوگا یا حرام؟
براہِ کرم واضح اور حتمی شرعی رہنمائی فرمائیں ،تاکہ کسی حرام عمل سے بچا جا سکے۔
جزاکم اللہ خیراً
والسلام
واضح ہو کہ جس طرح زبان سے الفاظ طلاق ادا کرنے سے طلاق واقع ہوتی ہے، اسی طرح اگر کوئی شخص بغیر کسی جبر واکراہ آزادانہ طور پر محض خاندانی دباؤ کے پیش نظر یہ جانتے ہوئے کہ یہ طلاق نامہ ہے، طلاق نامہ پر دستخط کردے تو اس سے طلاق نامہ پر درج طلاق( خواہ ایک ہو یا تین)واقع ہوجاتی ہے،اور اگر وہ طلاقیں تین سے کم ہواور اس شخص نے اس سے پہلے کوئی طلاق بھی نہ دے رکھی ہوتو اس صورت میں عدت کے دوران رجوع اور عدت کے بعد تجدید نکاح کی گنجائش ہوتی ہے،تا ہم اگر طلاق نامہ میں تین طلاقیں درج ہوں تو اس صورت میں رجوع یا تجدید نکاح کا اختیار بالکلیہ ختم ہوجاتا ہے،لہذا صورت مسئولہ میں سائل کے طلاق نامہ پر دستخط کردینے سے اسکی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے،اب رجوع نہیں ہو سکتا ،اور نہ ہی بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے ،،جبکہ ملک بدلنے سے بھی طلاق کے وقوع اور عدم وقوع پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں،ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے، جبکہ عورت ایام عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی ۔
کما جاء فی التنزیل العزیز: فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥ(البقرۃ،ایۃ:230)
و فی الشامیۃ: قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة. وإن علق طلاقها بمجيء الكتاب بأن كتب: إذا جاءك كتابي فأنت طالق فجاءها الكتاب فقرأته أو لم تقرأ يقع الطلاق كذا في الخلاصة ط(کتاب الطلاق ،مطلب فی الطلاق بالکتابۃ،ج:3،ص:246،)